سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں ہے

کون رکھے گا ہمیں یاد اس دورِ خود غرضی میں

حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں

ہم کون ہیں کیا ہیں باخدا یاد نہیں

اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس

ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں

بنت حوا کو نچاتے ہیں سر عام محفل میں

کتنے سنگ دل ہیں کہ رسم حیاء یاد نہیں

آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں ہے

شاعر : علامہ محمد اقبال 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں ہے” ایک تبصرہ

  1. بہت کھنگالا مگر یہ اشعار نظر سے نہیں گزرے. علامہ اقبال کی کونسی کتاب میں لکھے ہیں یہ اشعار؟

اپنا تبصرہ بھیجیں