پاکستانی خبریں

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد سینیٹ میں پیش کی گئی جو کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں…

ایوان بالا میں قرارداد کی منظوری پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے ڈائس کے سامنے قرارداد کی کاپی پھاڑ دی، ایوان بالا مچھلی منڈی بن گیا، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پی ٹی آئی ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

قبل ازیں قرارداد پر سینیٹر حامد خان نے کہا کہ اس گورنر راج اور ایمرجنسی کے پیچھے کچھ اور مقاصد نظر آرہے ہیں، بات چیت جو پارلیمنٹ میں چل رہی تھی وہ صرف ڈھونگ تھا، مذاکرات،بات چیت صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کی جارہی تھی، جب تک ملٹری اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرے گی کوئی جائز حکومت نہیں بن سکتی،جس ملک میں ملٹری قواعد ہوں گے وہاں جمہوریت نہیں آگے بڑھ سکتی۔

دوران اجلاس مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی اور سینیٹر محسن عزیز میں جھڑپ ہوئی۔ محسن عزیز نے کہا کہ آپ چھلانگیں نہ ماریں۔

عابد شیر علی نے کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس آپ کیسے عالم ہیں؟ محسن عزیز کی غلط بات کو اسلام سے جوڑ رہے ہیں ؟ آپ کو تو اسلام کا پتا ہی نہیں اور داڑھی رکھ لی ہے۔

سینیٹر محسن عزیز نے اظہار خیال کیا کہ آپ ٹیررازم کی بات کرتے ہیں آپ کو دہشت گردی کا کیا پتہ ہے؟ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اپنےبچے قربان کیے اور لاشیں اٹھائی ہیں، خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کا قبرستان بنایا گیا، کیا ہم نے پاکستان کا ساتھ دیا یا دہشت گردوں کا ساتھ دیا؟ خیبرپختونخواہ کے عوام کو دہشت گرد کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے، یہ وہ غیور لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک پاکستان کو بچایا ہے، دہشت گردی بے روزگاری، بھوک، ہسپتالوں، پانی اور تعلیم کی عدم دستیابی سے جنم لیتی ہے، پاکستان گزشتہ چار سال میں معاشی طور پر 72 فیصد کمزور اور تنزلی کا شکار ہوا ہے، بھارت کی معیشت سولہ فیصد مضبوط ہوئی ہماری کمزور ہوئی، غلط فیصلوں اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو معاشی تنزلی کی جانب دھکیلا گیا ہے۔ 

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہاکہ جو ایمرجنسی نافذ کی گئی اس کی مذمت کرتا ہوں، یہ آئین کا استعمال صرف وہاں کرتے ہیں جہاں انکا فائدہ ہوتا ہے، جو رویہ ہمارے ایم پی ایز کے ساتھ کیا گیا وہ نا قابل قبول ہے، حکومت یہ مطالبہ قبول کرتی ایک منٹ کے اندر بانی پی ٹی آئی سے انکی فیملی اور ڈاکٹرز کی ملاقات ہو جاتی، سہیل آفریدی کا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں؟ پی ٹی آئی کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ایسی کونسی کابینہ ہے جو وزیر اعظم کے فیصلے کو نہیں مانتی، وزیراعظم نے مولانا کو یقین دہانی کروائی کہ مطالبات مانے جائیں گے۔

سینیٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی تشکیل دی گئی تو وہ آمریت کے خلاف تھی مگر افسوس کی بات ہے جمہوری روایت کے مطابق پی پی سے توقع نہیں تھی کہ وہ اس طرح کے تقاضوں کو پورا کرے گی، کیا کے پی کے میں حکومت ہماری مرضی سے لائی گئی تھی؟ پیپلز پارٹی کو جس جمہوری انداز میں بنیاد رکھنے والوں نے چلایا تھا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، کے پی حکومت کی تیرہ سال سے سرپرستی کون کر رہا تھا؟ ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں ہیں ہم ایسے اقدامات سے نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں بدقسمتی ہے کہ جب بھی کوئی غیر جمہوری اقدامات ہوتے ہیں ان کو سیاسی شخصیات کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے ہمیں ان چیزوں کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے، یہ کس طرح کی روایات ہیں؟ ادھر اپوزیشن واک آؤٹ کر رہی ہے ادھر سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بل پاس ہوگیا، میں اس بات پر احتجاج کرتا ہوں ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔

سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے اب تک ہم نے بہت شکلیں بھی دیکھیں اور قربانیاں بھی دیں، میں مذاکراتی ٹیم میں موجود تھی دہشت گردی ہمارے لئے ریڈلائن ہے اور مذاکرات میں دہشت گردی سر فہرست تھی، مسودے پر دستخط ہونے تھے ہم ثالث کے طور بیٹھے تھے، پیپلز پارٹی نے ہی زور دیا کہ ہر آخری آپشن استعمال کیا جائے، بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ یہ ہمارے لیے آخری آپشن ہے اس اجلاس میں پی ٹی آئی قیادت کو موجود ہونا چاہیے تھا پی ٹی آئی کی فیڈرل سے آئی ٹیم نے پوری کوشش کی اپوزیشن لیڈر بھی موجود تھے انہوں نے بھی اچھا کردار ادا کیا۔

شیری رحمان نے کہا کہ آپ کہا کرتے تھے میں پنکھے اترواؤں گا، میں اے سی بندکراؤں گا، ہم یہ نہیں کرنا چاہتے نہ کریں گے، ہمیں پتہ ہے ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں جمہوریت نہ سکھائیں۔

قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری

اس سے قبل قومی اسمبلی میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی تھی جب کہ اپوزیشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی تھی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے تحریک پیش کی، اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت کی گئی۔

تحریک کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق کی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی، صدر مملکت کے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کی قرارداد طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد پر بحث شروع ہوئی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے بعد اس کے نفاذ کا ڈیکلریشن دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوتا ہے، ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ کیا، اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی اور صوبے کی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس دن میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے، بہت سارے دوستوں نے اسے بارہ اکتوبر سے تشبیہہ دی، کابینہ میں اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی گئی، خیبرپختونخوا کے حالات ملکی سلامتی کے خطرہ بنتے جارہے تھے، کئی سالوں میں دہشتگردی کے اضافے کی وجوہات ہیں۔
افواج پاکستان اور پولیس نے قربانیاں دے کر کامیابی حاصل کی تھی، کامیابی کے باوجود حالات دوبارہ خراب ہوگئے، ایک سال میں 3700 سے زائد دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضا ہے کہ صدر مملکت جب ایمرجنسی نافذکریں تو اس کی دس روز میں منظوری دونوں ایوانوں سے لینا ضروری ہے، ہمیں کہا گیا کہ بارہ اکتوبر 1999جیسی ایمرجنسی لگادی گئی ہے، ہمیں کہا گیا کہ گیارہ اکتوبر 2026کو بھی جمہوری حکومت کو ختم کرکے ایمرجنسی لگا دی گئی، کے پی کے میں دہشتگردی جس طرح سے بڑھی وہ سب کے سامنے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو جو ہوا ملی اس کی وجہ سیاسی جماعت کی دہشتگردوں سے نظریاتی ہم آہنگی تھی، کابینہ کا اجلاس اڑھائی گھنٹے جاری رہا، سال 2026 میں 3787دہشتگردی کے واقعات ہوئے، سال 2021 سے لیکر 2024تک دہشتگردی کے بے شمار واقعات ہوئے، وزیر اعلی نے شہدا کے جنازوں میں شرکت کی بجائے سیاسی مقاصد کے لئے ملکی سطح پر دورے شروع کردیے، جب صورتحال ایسی ہوتو پھر ردعمل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔

وزیر قانون نے کہا کہ طرفہ تماشہ یہ بنا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا اعلان کردیا گیا، ہم نے جوابی چڑھائی کرنے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، اسپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوئے،ہماری اتحادی پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا، دو روز تک مذاکرات ہوتے رہے، پوری قوم نے دیکھا رات اڑھائی بجے تک ڈرافٹ پر ڈرافٹ بنتے رہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایک بات واضح تھی کہ انسداد دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے کیا پالیسی اختیار کی جائے، جواب میں کہا گیا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں کیا سہولیات دیں گے، جیل سہولیات کے بارے میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی تھی، جو کچھ بھی ہونا ہے وہ جیل رولز کے ذریعے ہونا ہے، اگر کچھ ہوسکتا تھا تو وہ عدالت ہی کرسکتی ہے، حکومت کے پاس صدر کے معافی دینے کا اختیار ہے، دوبارہ سر جوڑے گئے اور دہشتگردی کے خلاف کیسے لڑیں کی بات کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح کچھ اور تھی، انہوں نے ہمیں کہا کہ پہلے جیل میں آسانیاں دیں پھر اگلی بات کریں گے، ماضی میں بھی پی ٹی آئی نے جب دو صوبائی اسمبلیاں توڑیں تو پھر انہیں احساس ہوا کہ غلطی کر بیٹھے ہیں، اس معاملے پر مذاکرات شروع ہوئے تو بیک وقت پورے ملک میں الیکشن کرادینے پر اتفاق ہوا، طے ہوا کہ بجٹ پاس کیا جائے گا پھر الیکشن میں چلے جائیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بوجھ بھی برداشت کیا، سب کچھ طے ہوگیا، شاہ محمود قریشی ان کی مذاکراتی ٹیم کو لیڈ کررہے تھے، شاہ محمود قریشی کو کال آئی ان کے لیڈر نے کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے لیڈر نے مذاکرات کو ویٹو کردیا ہے۔

اپوزیشن رکن شفقت اعوان نے اعظم نذیر تارڑ کی تقریر میں مداخلت کردی، اعظم نذیر تارڑ نے شفقت اعوان کے خلاف طنزیہ فقرے کہے، شفقت اعوان نے کہا کہ ہم آپ کی طرح فارم 47پر یہاں نہیں آئے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے، جو کہتے ہیں ہم امن لائیں گے، انہوں نے 35سال حکومت کی، جنرل ایوب 10سال، ضیاالحق11سال، پرویز مشرف 11سال رہے، اس کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا، پاکستان کو آپ نے دہشت گردوں کا اڈا بنایا، دہشت گردوں کو یہاں تربیت دی جاتی رہی۔ 

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیر ستان میں آپ معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو مار رہے ہیں لوگ آپ کو مار رہے ہیں، سیدھی بات کریں، اس پارلیمنٹ میں کرسیاں لگائیں وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں، آپ کی حکومت غیر آئینی غیر قانونی ہے، آپ لوگوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کا وزیر اعظم کسی اور کو جواب دہ ہے اور وہ کسی اور کو جواب دہ ہے، فاٹا میں بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، ایران جنگ کے باجود پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ اپنے لیڈر سے ملنے دو، کسی سے ملاقات نہ کرانا بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے، آپ نے نواز شریف اور بینظیر کو بھی مجبور کیا، عمران خان سے ملاقات پر آپ کی بات اٹھک گئی تھی، وعدہ کرتے ہیں عمران سے ملاقات کی بات کسی کو نہیں کریں گے۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے نفاذ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا حق ہے اس بات کی مخالفت کریں، آپ کی زمہ دارانہ قیادت ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے پی ٹی آئی پر خودکش حملہ کیا، اگر آج آپ کی خبر پختونخوا میں حکومت نہیں اس پر صدر اور وفاقی حکومت پر الزام نہ لگائیں، آپ حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئے، گورنر کی رپورٹ اور وزیر اعظم کی سمری پر صدر کے دستخط نہ کرنے کا کوئی جواز دیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے پاس جب معاملہ آیا تو فیصلہ کیا اس آئینی ایٹم بم کو استعمال کرنے سے پہلے مذاکرات کیے جائیں، مجھے رات کو بتایا گیا مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں، اپوزیشن کے ماننے کا امکان ہے، بتایا گیا دہشتگردی والے علاقوں کو دہشت گرد زدہ علاقہ ڈیکلیئر کرنے کے لیے تیار ہے، حکومت نے ہر ممکن کوشش کی یہ قدم نہ اٹھانا پڑے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاز صدر مملکت کا آئینی حق ہے، وفاقی حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ذمے داری سہیل آفریدی ہے، ہم نے حکومت کو تجویز دیدی ہے دوبارہ مذاکرات شروع کریں، اپوزیشن مذاکرات کے ٹیبل پر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دار سیاسی جماعت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، حکومت سے کہتا ہوں مذاکرات کے لیے ایک بار پھر ہاتھ بڑھائیں، درمیانہ راستہ نکالنے کے لیے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے حکومت کو اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات کی تجویز دی اور کہا کہ مجبوری میں ایمرجنسی لگائی ہمیشہ کے لیے نہیں، یہ صرف میرا ملک نہیں، اپوزیشن کا بھی ملک ہے ، سیاست کو ایک طرف رکھیں۔
دہشتگردی کا مقابلہ متحد ہوکر کرنا ہے، ہماری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے، ہم نے ایک فیصلہ لیا دن رات اس پر محنت کرینگے، دہشتگردوں کا مقابلہ کرینگے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی اسپیس کم ہونے کے ذمہ دار اگر ہم ہیں تو آپ بھی ہیں، وزیراعلی کہتا ہے حکومت کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کروں گا، وزیر اعلیٰ نے کونسا پوائنٹ دیا تاکہ صدر دستخط نہ کر سکیں؟ حکومت اور اپوزیشن کو تجویز دیتا ہوں آئیں بات چیت کریں، ہم ہمیشہ کے لیے ایمرجنسی جاری نہیں رکھ سکتے، اگر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہے تو پورا رسپانس ہونا چاہیے، متحد ہوں تو دہشتگردی کی آگ بجھا سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ذمہ دارانہ اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کرے، ہم نے بھارت کے چھ جہاز گرائے اب وہ نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر نہیں رہا، مودی کہتا ہے کہ آپریشن سندور جاری ہے، بھارت آج بھی دہشتگردی کے واقعات اسپانسر کررہا ہے، پاکستان نے امریکا ایران مذاکرات کی بڑی ذمہ داری اٹھائی، اگر ہم 2 جماعتوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ نے صوبائی حکومت نہیں اس ایوان اور پاکستان کو ڈس فنگشنل کیا، پہلے آپ اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے سیاست کرتے تھے آج دہشتگردی کا بہانہ ہے، عمران خان کا ڈر آپ کے سر پر سوار ہے، بانی پی ٹی آئی نے ایون فیلڈ نہیں، شوکت خانم نمل یونیورسٹی بنائی، عوام کو آزادی دی، ہم اس کے لیے حق مانگ رہے تھے آپ نے کہا ہم دہشتگرد ہیں، کون کہتا ہے ہم دہشتگرد ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اس وقت مضبوط ہوگا جب تمام صوبے خود مختار ہونگے، ہر دہشتگردی کے پیچھے ہندوستان ہے اور ہندوستان کا مقابلہ ہم کرینگے، پاکستان کی ہر دہشتگردی کی پیچھے را ہے اور را دہشت گرد ہے، ہم نے یہ کہا دہشت گردی کیخلاف آپریشن کریں،ہم نے کہا گوڈ یا بیڈ طالبان نہ کریں، جھوٹ کے پیچھے چھپ کر ایک حکومت ختم کی گئی، آپ نے جمہوریت پر شب خون مارا، بانی پی ٹی آئی کو ٹوتھ پیسٹ، گرم کپڑے پہننے کی اجازت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹ عمران خان کے نظریے پر ملا، بانی پی ٹی آئی ہمارا لیڈر ہے، سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، 26 ویں اور 27 آئینی ترمیم کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کے دن جب ہم بیٹھے، وزیر داخلہ اور ہماری طرف سے علامہ راجہ ناصر عباس نے بات کی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں نے کہا آپ کیساتھ اس ٹیبل پر بیٹھ کر غلطی ہوئی، ہم نے کہا بطور سیاسی جماعت لانگ مارچ پر بات کرنے آئے ہیں، دہشتگردی کا معاملہ اپیکس کمیٹی یا صوبائی حکومت کے ساتھ رکھیں، آپ نے ہمیں کہا لانگ مارچ آیا تو ہم آپ کا بندوبست کرینگے، آپ نے پورے پاکستان کا بندوبست کردیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہاں پر معاملات ایسے اٹھائے جاتے ہیں کے ماضی سے مماثلت کی جائے، مجھے یاد ہے جنرل فیض اور جنرل باجوہ یہاں بیٹھے ہوتے تھے، ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی ان دہشت گردوں کو واپس لایا جائے تو فائدہ ہوگا، اپنا کیس لڑتے ہوئے ماضی کے کرتوت بھی دیکھ لیا کریں، ہمارے قول و فعل میں تضاد رہے گا تو یہ حالات ٹھیک نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے چیا سیڈ کی بات کی ہم تو چائے پراٹھا کھانے والے لوگ ہیں، جیل میں مجھے ایک کمبل دیا، دوسرا کمبل مانگنے پر نہیں ملا، شہباز شریف نے پتہ چلنے پر کمبل مجھے بھیجا، یہ تنقید کرتے وقت ماضی کو دیکھا کریں، سیاسی قیدیوں کے لیے قابل فخر بات ہوتی ہے، اٹک جیل میں 6/4 کا سیل تھا، ہم نے نواز شریف اور شہباز شریف کی رہائی کو کبھی ایشو نہیں بنایا، انہوں نے ایک شخص کی رہائی کو ایشو بنایا، ہمارا مسئلہ صرف دہشت گردی کا ہے، وزیر اعلیٰ کو سیاست کی فکر تھی، لیز پر آنے والا وزیر اعلی اپنی لیز کنفرم کروانا چاہتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈی چوک میں آکر قبریں نہیں بنائیں، ہم نے ایوان میں آکر ماتم نہیں کیا، ہم نے قانون نافذ کر نے والے اہلکاروں کو شہید نہیں کیا، برسر اقتدار وزیر اعلی افغانستان میں بیٹھے ایک شخص سے ڈیکٹیشن لیتا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو سب کو متحد ہوکر لڑنا پڑے گی، وہاں مائنز اور ہیلتھ کے ٹھیکے کس کے پاس ہیں، 14سال باقی صوبے کہاں ہیں وہ ایک صوبہ کہاں ہے، ایک صوبے کا تیا پانچا کر دیا آپ نے، حالات بتاتے ہیں حکومت کے پاس ایمرجنسی کے علاؤہ کوئی آپشن نہیں تھا، ان آیات کے نیچے کھڑے ہوکر جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ 

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ مذاکرات کے لیے دن رات کوشش کی، بہت انتظار کیا کہ یہ نوبت نہ ائے لیکن دیر کر دی، 12 اکتوبر کو ماورائے آئین اقدام ہوا تھا، 11 اکتوبر کو ائین کے مطابق اقدام اٹھایا گیا یہ قدم انتہائی ناخوشگواری میں اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خیبرپختونخوا کے بھائیوں کے کندے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے تھے، نواز شریف نے امن ے لیے اقدامات اٹھائے، دہشتگردوں کو واپس لا کر بٹھایا گیا کہ ائین کی پاسداری کریں گے اور بغیر اسلحہ آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شہری اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کا نشانہ بنتے رہے، پاکستان کے بہترین ڈاکٹرز کی خدمات بانی پی ٹی آئی کو میسر ہیں، ان کے دور میں مجھے قید کیا گیا مجھے فزیوتھراپی کی سہولت نہیں دی گئی، میرا بازو آج بھی ٹیڑھا ہے۔ 

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Related Articles

Back to top button