دو روحوں کا پیاسا بادل, گرج گرج کر برس رہا تھا

دو روحوں کا پیاسا بادل
گرج گرج کر برس رہا تھا

دو یادوں کا چڑھتا دریا
ایک ہی ساگر میں گرتا تھا

تیرے گھر کے دروازے پر
سورج ننگے پاؤں کھڑا تھا

دور کے پیڑ کا جلتا سایہ
ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا

پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا
شہر کے نیچے شہر بسا تھا

پتھر کی اندھی گلیوں میں
میں تجھے ساتھ لئے پھرتا تھا

پتھر کی دیوار سے لگ کر
آئنہ تجھے دیکھ رہا تھا

پچھلے پہر کا سناٹا تھا
تارا تارا جاگ رہا تھا

تیرے سائے کی لہروں کو
میرا سایہ کاٹ رہا تھا

گۓ دنوں کی خوشبو پا کر
میں دوبارہ جی اٹھا تھا

وقت کا ٹھاٹھیں مارتا دریا
ایک ہی پل میں سمٹ گیا تھا

چاندی کا اک پھول گلے میں
ہاتھ میں بادل کا ٹکڑا تھا

بارش کی ترچھی گلیوں میں
کوئی چراغ لیے پھرتا تھا

بھیگی بھیگی خاموشی میں
میں تیرے گھر تک ساتھ گیا تھا

سناٹے میں جیسے کوئی
دور سے آوازیں دیتا تھا

یادوں کی سیڑھی سے ناصر
رات اک سایہ سا اترا تھا

ایک پیڑ کے ہاتھ تھے خالی
اک ٹہنی پر دیا جلا تھا

جسم کی پگڈنڈی سے آگے
جرم و سزا کا دوراہا تھا

کتنا چپ چپ کتنا گم سم
وہ پانی باتیں کرتا تھا

تیرے دھیان کی کشتی لے کر
میں نے دریا پار لیا تھا

کچھ یادیں کچھ خوشبو لے کر
میں اس بستی سے نکلا تھا

یاد آئی وہ پہلی بارش
جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

چاند کے دل میں جلتا سورج
پھول کے سینے میں کانٹا تھا

دل کی صورت کا اک پتہ
تیری ہتھیلی پر رکھا تھا

شام کی گہری اونچائی سے
ہم نے دریا پار کیا تھا

یاد آئیں کچھ ایسی باتیں
میں جنہیں کب کا بھول چکا تھا

تیرے ہاتھ کی چاۓ تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہا تھا

میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی
گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا

اک اجڑے سے اسٹیشن پر
تو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا

روتے روتے کون ہنسا تھا
بارش میں سورج نکلا تھا

جنت تو دیکھی نہیں لیکن
جنت کا نقشہ دیکھا تھا

وہ جنت میرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا

اب تجھے کیا یاد دلاؤں
اب تو وہ سب کچھ ہی دھوکہ تھا

وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی
وہی ملا ہے جو لکھا تھا

دل کو یوں ہی سا رنج ہے ورنہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا

شاعر : ناصر کاظمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں