کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں
بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا

کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں