X

Punjab Ads – Smartest way of Business Marketing

اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں مداخلت، قطر نے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے فنڈنگ کے الزامات کی تردید کردی

قطر نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق قطر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات قطر کو خطے میں اس کی جاری ثالثی کی کوششوں اور سفارتی و انسانی ہمدردی کے کاموں کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد نے انتخابات کے دوران عرب جماعتوں پر مبینہ قطری فنڈنگ کے غیر مصدقہ الزامات عائد کرتے ہوئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اس مہم کے دوران انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان قومی سلامتی کے وزیر اتمر بین گویر نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے چیئرمین نے غیر ملکی فنڈنگ کے شبہے پر ‘شن بیت’ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے حالانکہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دھاندلی کے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو اتحاد کی اس مہم کا مقصد اپوزیشن کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو مزید مشکل بنانا ہو سکتا ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمر بین گویر نے کہا کہ اگر قانونی جواز موجود ہو تو شن بیت کو ان عرب رہنماؤں کی گرفتاری کا حکم دینا چاہیے جن پر قطری فنڈنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

اسی طرح وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے ایکس پر لکھا کہ ’عرب جماعتوں کے رہنماؤں سے آج ہی شن بیت کو پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ ریاستِ اسرائیل کو دہشت گردی کے پیسے سے بنیاد پرست اسلام کے ہاتھوں فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا‘۔

حکمران جماعت لیکود نے اس معاملے کو ’رام گیٹ اسکینڈل‘ کا نام دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ ایک سیاسی زلزلہ ہے۔ اسرائیل کے انتخابات چرا لیے گئے ہیں!‘ لیکود نے مزید کہا کہ ان الزامات کے بعد اپوزیشن کو کنیسٹ کے اسپیکر عامر اوہانا کو ہٹانے کے لیے ‘یونائیٹڈ عرب لسٹ’ یا ‘رام’ کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ان الزامات کی حمایت میں تاحال کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

Ahsan MuGhaL: Hi, This is Ahsan Mughal CEO at Google Gangs belongs to Narowal, Pakistan. I work as a Blogger, Youtuber, Graphic Designer, Web Designer, Video Editor, Seo Expert, etc having experience more than 5 years.

This website uses cookies.