حضور نبی کریم ﷺ بحیثیت معلم

حضور نبی کریم ﷺ بحیثیت معلم

تعلیم وتدریس ایک مقدس منصب ہے جو سیدالانبیاء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت اور فرائض نبوت میں سے ایک فریضہ ہے۔

آپ ﷺ نوید مسیحا اور دعاۓ خلیل ہیں ۔ابراہیمؑ بیت اللہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔

“اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیے جو انھیں تیری آیات سنائے ،ان کو کتاب اور حکمت کی  تعلیم  دےاور ان کی زندگیاں سنوارے” (البقرہ 129 )

اللہ نےابراہیمؑ کی دعا قبول فرمالی۔

“لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا آپﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے روشن مثال قرار پائی”

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے : “انما بعثت معلما””مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔

آپﷺ مثالی معلم تھے جہالت میں ڈوبے ہوئے  انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ  کر کے نے انہیں اس شان سے پورے عالم کی قیادت کے  قابل بنا دیا جسکی مثال نہں ملتی   آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کردار‘ قول و فعل میں ہم آہنگی راست بازی تحمل و برداشت ایثار عدل استقامت اور ان جیسی بے شمار خوبیوں نے کفر و جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں علم اسلام کی شمع روشن کی ۔ آج کے معلمین اور اساتذہ اکرام کو بھی  آپﷺ کے اوصاف کو اپناتے ہوئے اپنے معلمانہ پیشے کو باخوبی ادا کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رہنمائی اور بھلائی کا فریضہ بہترین طریقہ سے سرانجام دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں