پانی بیش قیمت نعمت ہے

پانی اللہ کی بیش قیمت نعمت ہے

انسانی زندگی کے لئے سب سے زیادہ اہم جُز پانی اور آکسجن ہے۔ بلکہ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کے ارتقائی عمل کے ابتدائی دور میں زمین پر پہلے پانی موجود تھا آکسیجن کی پیدائش بعد میں ہوئی۔ ہم لوگ جو ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے اسی نے زمین ، آسمان، سمندر، چاند، ستارے اور وسیع و عریض کائنات تخلیق کی۔ ۔ سائنس بتاتی ہے کہ ہماری زمین کی تخلیق 4 اشاریہ 5 ارب سال قبل ہوئی

جو پانی آپ آج پی رہے ہیں اس کا ایک ایک قطرہ اربوں سال پرانا ہے۔ مگر اب یہ پانی جو کی زندگی کی علامت ہے نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے جبکہ دوسری بڑی وجہ ہمارے ماحول میں آلودگی ہے۔ ویسے تو پانی ہماری زمین کے 70 فیصد حصے پر محیط ہے مگر پینے کے قابل پانی صرف تین فیصد موجود ہے جو کہ مزید کم ہورہا ہے۔ آج دنیا کی مجموعی آبادی میں ایک ارب لوگ پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پیشنگوئی کے مطابق 2030 میں پانی کی شدید قلت متوقع ہے اور دنیا کے بڑے بڑے ملک اور شہر اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ کیپ ٹاؤن، بنگلور، استنبول، بیجینگ، ماسکو، قاہرہ، کراچی اور بہت سے بڑے شہر پانی کی شدید قلت کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2030 تک تازہ پانی کی طلب 40 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ ماحول میں آلودگی ہمارے پانی کو ضائع کر رہی ہے۔ بیجینگ شہر کا 40 فیصد پانی اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ وہ صعنتی اور زرعی استعمال کے قابل بھی نہیں رہا ہے۔ پاکستان میں خدا تعالیٰ نے وافر مقدار میں پانی فراہم کیا ہے ہمارے پاس دریا ہیں، جھیلیں ہیں گلیشئیرز ہیں، بارشیں ہیں مگر ان آبی وسائل کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم نہیں ہیں۔ ہم اپنی بدبودار سیاست کی وجہ سے پانی جیسے بیش قیمت خزانے کو سمندرغرق کر رہے ہیں۔ بھارت طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کی دھمکی دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ایک معاہدہ ہوا تھا جو سندھ طاس معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے ضامنوں میں ورلڈ بینک بھی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا بھارت کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔

جبکہ مغربی دریاؤں جن میں جہلم ، چناب اور سندھ کے پانی کا زیادہ حصہ پاکستان کے کنٹرول میں ہوگا۔مگر اب بھارت پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے کے لئے ان علاقوں میں بھی ڈیم بنا رہا ہے جن میں اس کو اجازت نہیں ہے۔ اور بہانہ یہ بنا رہا ہے کہ ہم بہتے پانیوں سے بجلی بنا رہے ہیں ان کو ذخیرہ نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کے دریا ریگستان بن سکتے ہیں ان حالات سے نکلنے کے لئے قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بہت سے ڈ یم سیاست کی نظر ہوچکے ہیں جیسے کہ کالا باغ ڈیم ہے ۔ عوام کو حقیقت بتانے کی ضروت ہے اور جو لوگ پانی پر سیاست کر رہے ہیں ان کا حقہ بند کریں یا نہ کریں مگر پانی بند کیا جانا چاہئے۔ کراچی کی عوام بوند بوند پانی کو ترس رہی ہے۔

پاکستان کی کوئی عدالت، کوئی محکمہ کوئی حکومت ان پانی مافیا کے خلاف کچھ نہی کر سکی ہے جو کراچی کا پانی سر عام بیچ رہی ہے۔ سندھ میں بھی پانی کی کمی کی وجہ سے آم کی فصل خراب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 60 فیصد آم کی فصل خراب ہو گئی ہے وجہ یہ ہی ہے کہ فصل کی پیداوار کے لئے پانی کی کمی ہے جس سے کروڑوں لی لاگت کے آم خراب ہو گئے ہیں۔آم کی برآمدات سے کروڑوں کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہاں بھی سندھ حکومت وفاقی حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ انہوں نے سندھ کا پانی کم کر دیا ہے جس سے نہ صرف آم بلکہ دیگر پھلوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

ہماری حکومتوں کی نالائقیوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیں کہ محکمہ آبپاشی کا ایک افسر قتل ہوا ہے تو ابھی تک اس کی جگہ کسی دوسرے افسر کو تعینات نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کسانوں کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ ہماری صوبائ اور وفاقی حکومتوں کو اپنے سارے منصوبے پس پُشت ڈال کر صرف پانی کےذخیروں کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہیں۔ چھوٹے بڑے ڈیم بنائیں جائں، دریاؤں کی صفائی کو ممکن بنایا جائے۔ اس سے پانی کی گنجائش میں اضافہ ہوتا ہے۔ دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر درخت لگائیں جائیں ۔کیونکہ ان سے کنارے مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں شگاف پڑنے کے خطرات کم سے کم ہوتے ہیں۔ پانی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے نسل انسانی کے لئے انمول تحفہ ہے اس کی قدر کرنے کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ اسے محفوظ کرنے کی بھی ضرورت ہے یہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس پانی ہوگا تو زندگی ہوگی۔ زندگی ہوگی تو مستقبل ہوگا۔ ورنہ اللہ ہی حافظ ہے۔اللہ پاک ہمیں عقل و شعور عطا فرمائیں !آمین۔

اللہ پاک ہمارا حامی وناصر رہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں