بین الاقوامی

امریکا کیجانب سے حملے روکنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر جوابی حملے روک دیے، ایران

ایران کا کہنا ہےکہ امریکا کی جانب سے حملے روکنےکے بعد اس نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر جوابی حملے روک دیے ہیں۔

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہےکہ یہ حملے دو رات پہلے تک جاری رہے، لیکن گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکیوں نے اپنے حملے روک دیے ہیں، ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی رہی ہے، اس لیے ہم نے اپنی جوابی کارروائیاں بھی روک دی ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک دوبارہ جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اتوار کے روز اب تک ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا، جب کہ امریکا نے بھی مسلسل دوسری رات ایران کو نشانہ نہیں بنایا، حالانکہ اس سے پہلے وہ روزانہ حملے کر رہا تھا۔

اے ایف پی کا کہنا ہےکہ حالیہ جنگ بندی کے وقفے نے تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل رات کے وقت ہونے والی امریکی بمباری کے بعد مذاکرات کی طرف واپسی کی امیدیں دوبارہ زندہ کر دی ہیں، اگرچہ امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہےکہ یہ وقفہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مہم کو مزید بڑھانے کے منصوبے جزوی طور پر ان ذخائر میں کمی کے باعث روک دیےگئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button