تصوراتی جنگ کس نے جیتی؟ مودی یا عمران، برطانوی خبررساں ادارے کا تجزیہ

تصوراتی جنگ کس نے جیتی؟ مودی یا عمران، برطانوی خبررساں ادارے کا تجزیہ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت میں امید ہے کہ کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونوالی کشیدگی ختم ہو جائیگی، اسلئے کس نے تصور کی جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ بی بی سی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ خیرسگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کر دینگے۔ دہلی میں نریندرا مودی نے سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے ریمارکس کے چند لمحے بعد پاکستان پر طنز کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’’پائلٹ پراجیکٹ مکمل ہو گیا‘ اب ہم نے اس کو حقیقت بنانا ہے‘‘ انکے حامیوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا، دیگر کے نزدیک یہ گھمنڈ اور بے لطف تھا۔ منگل کے روز جب بھارت کے فائٹر جیٹ طیاروں نے پاکستان کی سرزمین میں مبینہ دہشت گرد کیمپوں پر حملہ کیا تو مودی نے ایک انتخابی ریلی کا آغاز کیا، فیصلہ کن الیکشن میں اب ایک ماہ ہی رہ گیا ہے، انہوں نے دھمکی کے انداز میں کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں پاکستان نے جواب دے دیا۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اس نے بھارت کا ایک جیٹ فائٹر گرا دیا اور اسکے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا۔ دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے کیلئے غیر معمولی دبائو تھا۔ عمران خان نے پہل کی اور بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا۔ سابق بھارتی ڈپلومیٹ اور دفاعی امور کے ماہر کے سی سنگھ نے کہا کہ مودی کی بی جے پی اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہاکس کو عمران خان کی ریورس سوئنگ نے پھنسا دیا ہے۔ (کرکٹ کی اصطلاح میں ریورس سوئنگ وہ بال ہوتی ہے جو بیٹسمین سے دور جانے کی بجائے اسکی طرف مڑتی ہے، عمران خان اپنے وقت میں دنیا کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں)۔سکیورٹی کرائسس،2014 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے اپنے بیانیہ کو فروغ دیا، چاپلوس مقامی میڈیا نے اسکی مدد کی، جو ایک طاقتور اور قوم پرست کے طور پر انکے امیج کو بڑھا رہا تھا، اسلئے بہت سے لوگ حیران ہیں کہ کیوں انہوں نے بیورو کریٹس اور ملٹری کو میڈیا سے بات کرنے کیلئے منتخب کیا۔

انہوں نے خود عوام سے کیوں خطاب نہیں کیا، جب قوم چھری کی دھار پر تھی اور نیوکلیئر پڑوسی کے ساتھ فوری جنگ کی افواہوں کی زد میں تھی۔ سب سے زیادہ ناراض اپوزیشن کی جماعتیں تھیں، 21جماعتوں نے مودی پر تنقید کی کہ وہ مسلسل انتخابی اجلاسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہیں اور یہاں تک اس دوران انہوں نے ایک موبائل ایپ بھی لانچ کی جو اسکی مدت کا سب سے بڑا سکیورٹی بحران تھا۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ پاکستان نے مودی کو جوابی حملے جس میں ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو پکڑ لیا، اس نے مودی کو حیران کر دیا۔ اگلے دو دن میں عمران خان نے صورتحال کی کشیدگی کم کرنے کا کہا۔ انہوں نے امن کیلئے بات کی اور کہا کہ وہ پائلٹ کو رہا کر دینگے۔ کے سی سنگھ نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے خود کو ایک باوقار معتدل اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے والا قرار دیا، اور بھارتی پائلٹ کو واپس کر کے سب کو حیران کر دیا۔ خان نے لوگوں اور دفاعی افسران سے بات کی اور میڈیا کو ابھی اپ ڈیٹ رکھا، بھارت میں بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی وزیراعظم ایک مناسب لیڈر نظر آئے‘ انہوں نے بھارت کو کارنر کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہوں نے دشمنی کے خاتمے کے ایک ایگزٹ روٹ کی اجازت دی۔ ایسا نظر آیا کہ مودی اپنے بیانئے پر کنٹرول کھو رہے ہیں۔

مورخ اور مصنف سری ناتھ راگھون نے کہا کہ پاکستان کے حملے نے بھارت کو حیران کر دیا۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد جس میں بھارت کے چالیس سے زائد فوجی مارے گئے تھے، پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا جبکہ پاکستان نے اگلے روز دن کی روشنی میں اس کا بڑی جرات سے جواب دیا۔پائلٹ کی گرفتاری نے مودی اور انکی حکومت کی امیدوں اور بیانئے پر پانی پھیر دیا، اور صبح سے اس سے قبل ہونیوالا بلندو بانگ بیانیہ اب مکمل طور پر پائلٹ کو گھر واپس لانے میں بدل چکا تھا۔ بھارتی فوج کی بریفنگ پاکستانی حملے کے 30گھنٹے کے بعد سامنے آئی، مودی اور انکی حکومت کو بیانیہ کنٹرول کرنے کیلئے بہت کم وقت ملا، اور آخرکار بہادری سے بیانیہ کنٹرول کرنیکی کوشش آسانی سے بیک فائر ہو سکتی تھی۔ مودی پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جنہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے، ان سے پہلے اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا اور وہ بھی جواب دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے درجہ حرارت میں کمی لانے کے اقدامات کئے۔ راگھون نے کہا کہ بدلہ کبھی بھی ایک سٹرٹیجک عنصر نہیں ہو سکتا، کیونکہ جذبات سے بنی حکمت عملی ہمیشہ ناکام ثابت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں