یورپین یونین کی جانب سے کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر اظہار تشویش

یورپین پارلیمنٹ میں سائوتھ ایشیا کے لئے ٹریڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے سربراہ سجاد کریم نے گذشتہ ہفتے سے جاری پاک بھارت تنازع میں یورپین یونین کے کشمیر کا ذکر نہ کرنے کے اقدام پر شدید تشویش اور خفگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگرینی کے نام ایک خط میں کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والے حالیہ پاک بھارت تنازع کے دوران یورپین یونین کی جانب سے دئیے گئے تمام بیانات میں تنازع کی بنیادی وجہ یعنی مسلئہ کشمیر کا ذکر کرنے گریز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس خطے کے سب سے بڑے تنازع کو حل کرنے میں مددگار نہیں بلکہ اسے خراب کرنے کا سبب بنے گا۔

اپنے خط میں ڈاکٹر سجاد کریم، ایم ای پی، نے مزید تحریر کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اپنا حق آزادی مانگنے کی پر امن جدوجہد کرنے والوں پر بھارتی فورسز کے تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے انسانی حقوق بری طرح پامال ہوئے ہیں ۔ خاص طور پیلٹ گن کا استعمال بڑھ گیا ہے، جسے بظاہر تو کم خطر ناک ہتھیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں چہرے خصوصاً بینائی سے محرومی ایک سنگین مسلہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 2009 میں یورپ – انڈیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں اسی لئے انہوں نے تجارت کرتے ہوئے انسانی حقوق کا خیال رکھنے کی شقیں متعارف کروائی تھیں ۔ لیکن ایٹمی ہتھیار رکھنے والے دو ملکوں کے درمیان حالیہ تنازع میں اصل وجہ تنازع کا ذکر نہ کرنے پر انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس سے اس تنازع کو حل کرنے میں فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں