X

Punjab Ads – Smartest way of Business Marketing

حکومت سیاسی محاذ آرائی اور تصادم کے بجائے تمام سیاسی، سماجی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت کو ترجیح دے: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کے لیے معاشی طور پر جینا اب مشکل ہوگیا ہے،اگر ہم آپس میں لڑتے رہے تو پاکستان کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھاکہ لاڑکانہ شہر میں پانی کی پائپ لائن نہیں، کوشش ہوگی گھروں تک صاف پانی پہنچے، بہت سے مسائل ہیں…

لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے اسپتال کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں بلاول کا کہنا تھاکہ چانڈکا اسپتال عوام کیلئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ ہے، چانڈکا اسپتال پر اب جو بوجھ پڑا ہے اسپتال یہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں، بلوچستان میں نصیرآباد اور دیگر علاقوں سے بھی عوام یہاں علاج کیلئے آتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی عوام کو عالمی معیار کا علاج پہنچا رہی ہے، یہ ہونا چاہیے کہ علاج کی سہولت موجود ہو اور پیسے نہ ہونے سے کوئی شہری علاج سے محروم رہے، موجودہ حالات میں عوام کیلئے علاج معالجے کی مفت سہولت زیادہ اہم ہے، سندھ اعلیٰ تعلیم کی فراہمی پر 45 ارب روپے خرچ کررہا ہے، معاشی مشکلات میں عوام کی ہم پر مزید ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ لاڑکانہ شہر میں پانی کی پائپ لائن نہیں، کوشش ہوگی گھروں تک صاف پانی پہنچے، بہت سے مسائل ہیں جنہیں حل کرنےکی کوشش کریں گے، لاڑکانہ شہر کےسیوریج اینڈ ڈرینیج کےنظام کو بھی بہتر کریں گے۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم سے ملاقات اچھی رہی چاہتے ہیں وفاق کے ساتھ مل کر کام کریں، وزیراعظم کو صوبوں میں کابینہ میٹنگ بلانے کی تجویز دی، وزیراعظم کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی ہے، ہماری مدد سے وفاق کے بجٹ منظور ہوئے، اب وفاق منصوبے میں مدد دے رہا ہے۔

بلاول نے کہاکہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہے تو پاکستان کے مسائل نہیں ہونگے، آپس کے اختلافات کو بھول کے معاشی مسائل کے حل پر کوشش ہونی چاہیے، پاکستان کے عوام کیلئے معاشی طور پر جینا اب مشکل ہوگیا ہے، اگر ہم آپس میں لڑتے رہیں گے اور بس لڑتے ہی رہیں گے، پی ٹی آئی سے لڑیں گے، مولانا سے لڑیں گے دہشتگردوں سے بھی لڑیں گے، بھارت اور افغانستان سے بھی لڑیں گے تو پھر ہم اسی کام میں مصروف رہ جائیں گے، پاکستان کے عوام کی تکلیف اور دکھ پر ہماری توجہ ہونی چاہیے، آپس کے اختلافات کو بھول کر معاشی مسائل پر توجہ دی جائے۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی میں پی ٹی آئی کو شریک ہونا چاہیے، پی ٹی آئی انتخابات سے متعلق اس عمل میں شامل نہیں ہوتی تو پھر دھاندلی کا رونا بھی نہ روئے، الیکشن میں دھاندلی کا سلسلہ پیپلزپارٹی کو روکنے کیلئے اپنا گیا، شہید بے نظیر بھٹو نے انتخابی اصلاحات پر بہت کام کیا، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ہر دور میں انتخابی اصلاحات کیلئے کام کیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے کچھ نمائندے بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں، سب کا اگر یہ مؤقف ہے کہ دھاندلی ہوتی ہے تو انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی ایک آغاز ہوسکتا ہے، پی ٹی آئی کا تو اس ایوان سے متعلق شروع دن سے الیکشن دھاندلی کا بیانیہ ہے، اپنا وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پاس بھیجا، ہم نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ اپوزیشن کے نمائندے انتخابی کمیٹی کا حصہ بنیں، اپوزیشن کی طرف سے ہر موقع پر مؤقف رہتا ہے کہ پہلے عمران خان کو رہا یا ملاقات کرائیں، خان صاحب نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو پورا اختیار دیا ہے جب بانی پی ٹی آئی نے پورا اختیار دیا ہے تو اپوزیشن لیڈرز کو فیصلہ کرنا چاہیے۔

بلاول نے مزید کہاکہ اپوزیشن لیڈرز غیرمشروط طور پر انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں پی ٹی آئی کی نمائندگی یقینی بنائیں، انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی میں پی ٹی آئی کو شریک ہونا چاہیے ، پی ٹی آئی کمیٹی میں نہیں آتی تو عوام کو پھر ان کی دھاندلی کی شکایت نہیں سننی چاہیے۔

گورنر راج کے حوالے سے پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ اپوزیشن لیڈرز کے پاس بانی پی ٹی آئی کا مینڈیٹ اور اختیار ہے انھوں نے حکومت کے ساتھ طے کیا تھا کہ گورنر راج نہیں لگے گا مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے، طے ہوا تھا کہ مشورہ کرکے ایم او یو بنائیں گے کہ یہ یہ ہمارا نیشنل ایکشن پلان تھری ہوگا۔

انہوں نے بتایاکہ اس کے بعد ان کا وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ نہیں توپھرمجھے یا وزیراعظم کو قصوروار نہیں ٹہھراسکتے، مذاکرات میں جو لوگ شامل تھے وہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ایمرجنسی نفاذ کا قصوروار نہیں ٹہھرا سکتے، آج بھی پی ٹی آئی کو دعوت اور حکومت کو درخواست ہے کہ بات چیت کا راستہ بند نہ کریں، آج بھی دہشت گردی سے متعلق اتفاق رائے پر پہنچ جاتے ہیں تو میں سب سے پہلا بندہ ہوں گا جو کہے گا گورنر راج ختم کریں۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ عوامی نمائندے بہتر پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ مسائل کا صحیح معنوں میں ڈیل کریں، پیپلزپارٹی کبھی نہیں چاہتی کہ کسی کے جمہوری مینڈیٹ کو نقصان پہنچے ، پیپلزپارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ دہشتگردی ہماری ریڈ لائن ہے، یہ کہنا کہ دہشت گردی ایک بہانہ ہے ، یہ بات حقائق پر مبنی نہیں۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ ملک میں اس وقت جتنے دہشت گردی کے واقعات ہوئے، لوگ شہید ہوئے 2008 کے بعد یہ تعداد نہیں دیکھی تھی، یہ زمینی حقائق ہیں کہ افغان حکومت کی تبدیلی کے بعد دہشت گردی کے واقعات بہت بڑھ گئے، پی ٹی آئی حکومت میں پاکستان اور افغانستان میں جو دہشتگردی کے جرائم میں قیدی تھے ان کو رہا کیا گیا، آج ہم نہ صرف اس کو نقصان اٹھارہے ہیں بلکہ اس کا بھی اٹھارہے ہیں کہ افغانستان میں ان کے اتحادی کی حکومت ہے۔

بلاول نے کہاکہ خیبرپختونخوا فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور وہاں کا وزیراعلیٰ جس کی ذمہ داری ہے کہ کہے میں ان دہشتگردوں کا مقابلہ کروں گا لیکن وزیراعلیٰ کا موقف یہ تھا کہ لانگ مارچ میں عوام کے سامنا وعدہ لیا کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرے گا، اس صورتحال میں آئینی اور قانونی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے جب وزیراعظم کی طرف سے نوٹی فکیشن صدر کے پاس آتا ہے کہ فلاں فلاں بنیادوں پر ایمرجنسی یار گورنر راج کا نفاذ مجبوری ہے، میں نہ کوئی سیاسی نہ قانونی اور نہ آئینی وجہ بتاسکا وزیراعظم کو کہ گورنرراج کا نفاذ نہیں بنتا، وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ کہ پیپلزپارٹی کے کہنے پر پی ٹی آئی سے انگیج کیا۔

News Desk:

This website uses cookies.