جسٹس محسن اختر کیانی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلیوں نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے عدالتی معاملات میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے بعد وکالت کے ذریعے عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
واضح رہے گزشتہ روز جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تبادلہ کیا گیا تھا۔
اس سے قبل رواں سال اپریل میں جسٹس محسن اختر کیانی کا دیگر ججز کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ میں تبادلہ ہوا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کو 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھا۔