X

Punjab Ads – Smartest way of Business Marketing

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی تحریک کثرت رائے سے منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، چئیرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق کاغذات مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیے گئے، صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کاغذات آرٹیکل232کی شق 7کے…

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے کاغذات آرٹیکل 234کی شق 3 کے تحت مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلان مشترکہ اجلاس میں پیش کیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ آیا، چھت گرنے سے بچے اور اساتذہ شہید ہوئے، پشاور اسکول واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعاء مغفرت کی گئی، بچوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے فوائد معطل کرنے کی تحریک مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، تحریک وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔

صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے سیشن میں احتجاج شروع کردیا۔

اپوزیشن اراکین بازووں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے، اپوزیشن نے گنتی چیلنج کر دی۔

اسپیکر نے قرارداد کے حق اور مخالفت میں اراکین کو گننے کی ہدایت کی، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کے حق میں 214اراکین نے حمایت کی، 56اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔

صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی جاری رکھی۔

مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قرارداد پر بحث شروع ہوئی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضا پورا کرنے کیلئے اج کا اجلاس بلایا گیا ہے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس پر بات ہوچکی ہے۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس اسلام آباد اور پشاور میں ہوتے رہے، صوبے میں ایک روز میں لکی مروت، ٹانک، باجوڑ میں واقعات ہوئے، ایسے وقت میں وزیراعلی کو لانگ مارچ کی بجائے ہسپتال میں ہونا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ جن حالات میں ہمارا ملک پھنس گیا ہے، خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں یہ ہماری اندرونی خامیوں کا نتیجہ ہے، آئین بڑی مشکل سے بنا پاکستان ٹوٹنے کے بعد ، پاکستان ٹوٹا بھی ہماری انا کی وجہ سے، سکندر مرزا سے متعلق مشہور ہے یہ اس بندے کا نواسہ ہے جس نے سراج دولا کو دھوکا دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے گورنر راج لگایا، آپ بھی اس میں کود پڑے، قوائد و ضوابط میں ہماری طرح آپ کے لیے بھی حدود ہے، آپ یہاں بیٹھے تھے آپکی وردیاں پہن کر ادارے 8ممبران کو اٹھا کر لے گئے، مذاکرات اس بات پر ہونگے پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہوگی، صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہوگا، بیٹھیں غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان ہاتھوں کو روکیں گے، جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتوں کا محاز بنائینگے، گیارہ بارہ لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، کیا احتجاج کرنا جرم ہے ، لوگوں نے ردعمل دیا آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، کیا لوگوں نے بچے اس لیے جنے کے آپ گولیاں ماریں، ہمارے وزیر اعلی، ایم پی ایز کو اغوا کیا، آپ اغوا کار ہیں آپ دہشت گرد ہیں۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ فروری الیکشن آپ کھائیں قسم کیا آپ جیتے ہیں، کونسی دہشتگردی کی بات کر رہے ہیں، سوئیت یونین میں آپ نے فرنٹ اسٹیٹ بنایا، دہشتگردوں کو ٹریننگ آپ نے دی، 6ہزار دہشت گردوں کو وہاں پہنچایا گیا، کیا اس کا ذمہ دار سہیل آفریدی ہے، دہشتگردی آپ لیکر آئے سہیل آفریدی اس وقت بچہ تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دنیا کہتی تھی دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد آپ کے پاس ہے ہم انکاری تھے، 2 ہیلی کاپٹر آئے اور ہماری سالمیت کی دھجیاں بکھیری گئیں، افغانستان کے باڈر پر 20فٹ کی دیوار کھڑی کر دی، دہشت گرد کہاں سے اڑ کر آتے ہیں، طالب آپ کی تخلیق ہے۔

سینیٹر شیری رحمان کا اظہار خیال

سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اچکزئی صاحب مارشل لاء کی بات نہ کریں، ہم سے پوچھیں مارشل لاء میں کیا ہوتا ہے، آپ کی حکومت میں ٹی ٹی پی فائٹرز کو رہا گیا ، بینظیر کی شہادت اس لیے نہیں دی کہ دن اور شام کو الگ الگ حکومت ہو، آپ کی قیادت مذاکرات میں نہیں آئی۔ 

انہوں نے کہا کہ اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپ کے ساتھ ہیں، پانچ میں سے تین مطالبات ماننا آپ کی فتح تھی، آپ کی قیادت نے آپ پیروں تلے زمین کھینچی، آپ کی قیادت نے لانگ مارچ کی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ سے کون ڈرتا ہے لانگ مارچز آئے اور گئے، دوسرے ملک سے ڈکٹیشن آرہی تھی ہمیں آواز بھی آرہی تھی، آپ کے ساتھ علاج اور قانونی رسائی کی بات ہوگئی تھی۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں تھا، ایک صوبے کی اپنی خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔

اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس

اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین فیڈریشن اور اکائیوں کے درمیاں عمرانی معاہدہ اور ترجمان ہے، عوام کے منتخب نمائندے کو اقتدار سےمحروم کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، سسٹم اسی وجہ سے منہدم ہوا، ہر بیماری کی جڑ اور ماں 8 فروری کے انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو شہید ہوئیں باہر سے تحقیقات کیوں کرائی گئیں، کیا آپ کو اپنے اداروں پر اعتماد نہیں تھا، سب سے سامنے غیر قانونی کام ہورہا ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ کروانا غیر قانونی ہے، کیا لانگ مارچ آئین اور قانون کے خلاف ہے، خدا کے لیے پاکستان کو قبرستان نہ بناؤ۔

وفاقی وزیر امیر مقام کا مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال

وفاقی وزیر امیر مقام نے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دن کو دن کہا اور رات کو رات کہا، 2014 میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا اس نے پوری عوام کو ایک پیج پر لایا، نیشنل ایکشن پلان پر سب ایگری ہوئے، اس پر عملدرآمد ہوا، بیرسٹر سیف وزیر تھا افغانستان جا کر معاہدے کیے، پھر بدامنی شروع ہوئی، لوگ جنازوں میں نہیں جاسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے آپ کو مسترد کردیا، آپ تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے اچھے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وزیر اعظم کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات

اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی، وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی نشست پر جاکر ایوان میں ملاقات کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کچھ دیر تک محمود خان اچکزئی سے راز و نیاز کی کھڑے ہوکر باتیں کرتے رہے، وزیر اعظم کے ایوان سے جانے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی۔

محمود خان اچکزئی اور خواجہ آصف ایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کرتے رہے، اس کے علاوہ قومی اسمبلی ایوان میں اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

ایمل ولی خان نے اپنے موبائل پر بلاول بھٹو زرداری کا نمبر ایڈ کروایا، بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کچھ دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔

بیرسٹر گوہر کا اظہار خیال

بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال میں کہا کہ ہم پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا، میں اس الزام کو مسترد کرتا ہوں، فیصلہ کرلو کیا ہم دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے ہیں، وزیراعظم صاحب آپ نے ہمیں زخم دیا ہے، ہم ایسے بیانات پر لعنت بھیجتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر اس بیان کے اثرات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری ہے، ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، آپ نے وفاق کو داؤ پر لگا دیا ہے ،
ہم دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں، ایک ملاقات کے ڈر سے پوری حکومت ختم کردی، اگر ہم دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو ہمیں پھانسی دے دو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس ملک کے نہیں ہیں تو آج بتا دیں، ہماری نسلیں تمہیں معافی مانگنے پر مجبور کریں گی، ہم سب کچھ ہوسکتے ہیں دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں کر سکتے ، جتنا جلدی الزام واپس لیں وہ بہتر ہے، ہم آپ کے ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج بلانے کو مسترد کرتے ہیں، ہم وہ پاکستان بنائیں گے جس میں آپ کا علاج ہوگا۔

ایمل ولی خان کا اظہار خیال

ایمل ولی خان نے کہا کہ دہشتگردی، پی ٹی آئی، گورنر راج اور ایمرجنسی الگ الگ موضوعات ہیں۔

کسی کی مخالفت میں بہت آگے جانا اور کہیں سپورٹ کرنا نا قابل قبول ہے، میں اس ریاست سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں، حکیم اللہ محسود نے ایک پارٹی کے قابل قبول ہونے کا اعلان کیا، پھر وہی پارٹی حکومت میں آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ پر دہشت گردی کا الزام عائد نہیں کر رہے، پی ٹی آئی کی حکومت کیسے آئی، آپ کا لیڈر دہشت گردوں کا بہت بڑا وکیل رہ چکا ہے، کیا آپ طالبان کی وکالت کر رہے تھے یا نہیں ، کہا گیا طالبان کو مین اسٹریم میں لائیں، کیا دہشت گرد آپ کیلئے مہم چلا رہے تھے یا نہیں، پانچ سال خیبرپختونخوا حکومت تخت لاہور کی لڑائی کیلئے استعمال ہوئی، کیا طالبان کی دوبارہ آبادکاری کی بات نہیں ہوئی۔

ایمل ولی نے کہا کہ اصل فیصلہ سازوں کا احتساب کب ہوگا، اگر دہشت گردی پر صوبائی حکومت ختم ہوئی تو وفاقی حکومت بھی ختم ہونی چاہیے۔

جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا خطاب

جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جے یو آئی نے دہشتگردی کے الزامات کی دستاویزات مانگی تھیں مگر وہ نہیں دی گئیں، ہم نے ایمرجنسی و گورنر راج کے نامنظور کی قرارداد جمع کرائی تھی مگر وہ بھی نہیں لائی گئی، صدر مملکت نے ایمرجنسی و گورنر راج پر صدر کے اطمینان کا لکھنا تھا مگر انہوں نے اطمینان کا نہیں لکھا، آرٹیکل 234میں لکھا ہے اگر صدر کسی صوبے کے گورنر کی رپورٹ پر مطمئن ہو جائے تو وہ ایمرجنسی لگا سکتا ہے، صدر کی رپورٹ میں اطمینان والی بات نہیں لکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر نے سمری پر ذہن اپلائی نہیں کیا، بتایا جائے کہ وہ گورنر راج والی سمری کہاں ہے،

کیا یہ سمری کسی کی جیب میں ہے، آج ان کی باری ہے تو کل ان اگلی نشستوں والوں کی باری ہے، اگر صوبے میں حکومتی رٹ نہیں تو کیا کچے کے علاقے میں ان کی رٹ ہے ؟ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی طرح گڈ پی ٹی آئی اور بیڈ پی ٹی آئی بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج نہ لگاتے تو گڈ پی ٹی آئی کو ہی حکومت دے دیتے، مجھے معلوم ہے کہ یہ یہ تو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات بھی لینے جارہے تھے، مجھے معلوم ہے یہ بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کا اختیار لینا چاہتے تھے، ایک شخص نے کردار ادا کرکے بنیادی انسانی حقوق بچائے، ایک شخص نے پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات بچائے، ملک کے مسائل کا حل آزاد الیکشن کمشنر میں ہیں۔

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بڑی تفصیل کے ساتھ آج کے موضوع پر بات ہوئی، ہمارے رویے بہت میٹر کرتے ہیں، گفت و شنید شروع ہوئی تو بہت اچھی خبریں آرہی تھیں، اچانک گفت و شنید ثمر آور نہ ہوسکا، ہم سب نے غلطیاں کی ہوں گی، بیرسٹر گوہر نے کہا ہم آئیں گے آپ کا علاج کریں گے، سیاست دان گفت و شنید کرتا ہوں، پاپولیریٹی کا ملک کو بھی فائدہ ہونا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک صاحب نے کہا اسلام آباد کے سومنات پر حملہ کریں گے، پھر آپ کیا چاہتے ہیں کون سا نظام وضع ہو، ہم نے لانگ مارچ کیا تو ایک گملہ نہیں ٹوٹا، ہم سب پاکستانی ہیں پاکستانیوں کا تحفظ کریں گے، کون ہیں وہ جو افواج پاکستان کی تضحیک کرتے ہیں، ہم نے نفرتوں کو ختم کرنا ہے۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں، ہم تو چھ چھ سال آصف علی زرداری کو نہیں مل سکتے تھے، بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات نہیں ہوتی تھی، ہم تو کوڑے بھی کھاتے تھے، بٹھائیں ان کو بھی اور حکومت کو بھی، گورنر راج واپس بھی ہوسکتا ہے اس کے لئے رویئے میں تبدیلیاں لائیں، اگر آپ کا چیف منسٹر سرکاری اخراجات پر آتا ہے ملک بند کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔

پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر کا خطاب

پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 234میں صاف لکھا ہے کہ گورنر کی طرف سے صدر کو رپورٹ آئے گی، صدر گورنر کی بھیجی گئی رپورٹ پر اطمینان حاصل کریں گے، بتائیں رپورٹ کون سی آئی اور اطمینان کیا حاصل کیا گیا، دہشتگردی کو روکنا آرٹیکل 148کے تحت وفاق کا کام ہے، اب دہشتگردی تو وفاق میں بھی ہوتی رہی ہے تو کیا وفاق پر بھی گورنر راج لگا دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امن و امان میں ناکام ہوجانا کافی ہے تو پھر بلوچستان میں کیوں گورنر راج نہیں لگایا
بلوچستان میں تو صوبائی حکومت مکمل فیل ہوچکی ہے۔ 

سینیٹر علی ظفر کی تقریر کے دوران سینیٹر مسلم لیگ ن عابد شیر علی نے شور مچایا، سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ میں ان کے شور پر اتنا ہی کہہ سکتا ہوں چور مچائے شور، آپ کے وزیر قانون سے غلطی ہوگئی ہے تو اب ایسے شور سے تو بات نہیں بنے گی۔

عابد شیر علی نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہا کہ چور جیل میں پڑا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے عابد شیر علی کو چپ کرا دیا۔

سینیٹر علی ظفر نے چیلنج دیا کہ حکومت صرف وہ رپورٹ دکھا دے جس پر صوبائی حکومت ختم کی گئی۔

پی پی پی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا خطاب

پی پی پی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ گورنر راج کوئی اچھی چیز نہیں، گورنر راج آخری آپشن تھا، مذاکراتی عمل کو کمزور کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والے ہمیشہ کہتے ہیں ہم ان سے بات کریں گے، آپ لاڈلے ہوں گے ہم تو کبھی لاڈلے بن ہی نہیں سکے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ہم نے پوری کوشش کی صوبائی حکومت کو ان بورڈ لیں تاکہ ہم شاںہ بشانہ لڑیں، اپیکس کی کمیٹی کے لیے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اپیکس کمیٹی کی پریس ریلیز میں لکھنا تھا دہشتگردی کا ملکر مقابلہ کرینگے، جو پریس ریلیز جاری ہوئے ایک دفعہ پڑھ لیں کیا لکھا گیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے تمام لوگوں نے اس پر باتیں کی، اسد قیصر کو کہا جو آپ کہہ رہے ہیں وہ آپ کی صوبائی حکومت یہ نہیں سمجھتی، اسد قیصر سے کہا ایک بار ان سے بات کر لیں،
صوبائی انفارمیشن منسٹر نے ٹی وی پروگرام میں تین دفعہ کہا مذمت کر دیں دہشتگردی کی۔

انہوں نے کہا کہ باخدا ہمارا یہ دل نہیں تھا کرنے کا، میں خود۔ذاتی طور پر وزیر اعلیٰ سے مل چکا تھا، ہم نے ملکر پانچ اضلاع کا پلان بنایا، پانچ اضلاع میں پولیس نے اپریشن کرنا تھا اور ہم نے سپورٹ کرنی تھی، پتہ نہیں ان کو کون روکتا تھا، وہ لیڈ لینے کو تیار نہیں تھے۔

News Desk:

This website uses cookies.