رائٹرز کے مطابق محمد باقر قالیباف نے جمعرات 29 اکتوبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔ ان کے بقول، ایران کی شرائط پوری ہونے کے بعد ہی مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی رہنما کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قطر کے ثالثوں نے بدھ کو تہران کو ایک نئی مجوزہ مفاہمت پیش کی تھی، تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اسے ناقابلِ قبول تجاویز قرار دیا۔
اختلافات کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ابتدا ہی سے بات ہو، جبکہ تہران پہلے امریکی بحری ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
قالیباف اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کی شرائط جون میں طے پانے والی عبوری مفاہمت اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے منسلک ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ان شرائط پر عمل درآمد کے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے پر پیش رفت نہیں ہوسکتی۔
ایران کی شرائط میں کیا شامل ہے؟
ایرانی حکام کے سابقہ بیانات اور مذاکرات سے متعلق رپورٹس کے مطابق تہران کے مطالبات میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمہ اور ایران کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے نکات شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز اس تنازع کا ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس کی بندش یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤقف اور شرائط سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ ثالثی کی کوششوں کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرکے جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے قابلِ قبول سمجھوتا تلاش کرنا ہے۔