وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کی قانونی اسناد اور وکالت کے تجربے پر سوالات اٹھ گئے

کیٹی زکریا نے رواں ہفتے کے آغاز پر وائٹ ہاؤس میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ کیرولین لیویٹ کی جگہ مقرر کی گئی ہیں، جنہوں نے اگست میں وائٹ ہاؤس چھوڑ دیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انہیں وکیل قرار دیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کیٹی زکریا نے سیاست میں آنے سے پہلے قانون کے شعبے میں کام کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم میڈیا کو امریکا کی کسی بھی ریاست یا دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ان کی بطور وکیل رجسٹریشن کا ریکارڈ نہیں ملا۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی بریفنگ کے دوران صحافی نے کیٹی زکریا سے پوچھا کہ انہوں نے امریکا کی کس ریاست میں وکالت کا لازمی بار امتحان پاس کیا تھا۔
اس پر زکریا نے صدر ٹرمپ کے ہمراہ کھڑے ہوکر جواب دیا، ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کس دائرہ اختیار میں وکالت کا لائسنس حاصل ہے۔
رائٹرز کے مطابق ان کی پہلی بریفنگ 15 منٹ سے بھی کم جاری رہی اور انہوں نے صرف 3 صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ بعض میڈیا مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے ان کی کارکردگی پر تنقید کی تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں زکریا نے بہت اچھا کام کیا۔
کیٹی زکریا نے بدھ کو ایک بیان میں کہا،’میں نے تمام ضروری اسناد کے ساتھ بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں کام کیا۔‘
انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ کیبل نیوز پر آنا شروع کیا تو پیپرڈائن یونیورسٹی سے رابطہ کرکے پوچھا تھا کہ وہ اپنا تعارف کس حیثیت سے کرائیں۔
ان کے مطابق یونیورسٹی کے صدر نے انہیں بتایا تھا کہ وہ خود کو وکیل کہہ سکتی ہیں، تاہم انہیں اٹارنی نہیں کہنا چاہیے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق زکریا نے لا اسکول سے گریجویشن کے بعد کیلیفورنیا کا بار امتحان دیا تھا لیکن وہ اسے پاس نہیں کرسکیں۔ اخبار نے اس معاملے سے براہ راست آگاہ ایک شخص کے حوالے سے بتایا کہ امتحان کا وقت ان کی شادی کی تیاری اور شوہر کے ساتھ چین منتقل ہونے کے منصوبے کے قریب تھا۔
کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی نامی امریکی واچ ڈاگ ادارے نے بدھ کو کیلیفورنیا اسٹیٹ بار میں شکایت درج کرائی۔
ادارے نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کی جائیں کہ آیا زکریا نے بغیر لائسنس کے خود کو وکالت کا اہل ظاہر کرکے قانون کی خلاف ورزی کی۔
ادارے کے مطابق کیلیفورنیا میں بغیر لائسنس وکالت کرنے کا اہل ظاہر کرنے سے متعلق قانونی پابندیاں موجود ہیں۔
ہیوسٹن یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر اور قانونی اخلاقیات کی ماہر رینی کناک جیفرسن نے کہا کہ یہ معاملہ پیشہ ورانہ اصطلاحات سے بڑھ کر عوامی اعتماد کا بنیادی مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری بننے کے لیے وکیل ہونا ضروری نہیں تاہم عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کوئی سرکاری عہدیدار اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کے بارے میں درست معلومات دے رہا ہے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے زکریا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی عوام تک معلومات پہنچانے کے لیے غیر معمولی طور پر اہل اور ذہین ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ان کے قانونی پس منظر اور اسناد سے متعلق رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
زکریا کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کی قانونی اسناد سے متعلق سوالات کے باعث وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کو ابتدائی دنوں ہی میں وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں۔









