پی ٹی آئی اور فاٹا کا انظمام

قبائلی علاقہ جات کے معصوموں کے پہلے مجرم، وہ پالیسی ساز تھے جنہوں نے اسٹرٹیجک یا تزویراتی مقاصد کے لئے ان علاقوں کو لیبارٹری، عرب وعجم سے آئے ہوئے عسکریت پسندوں کا گڑھ، انتہاپسندی کا مرکز اور حکمراں طبقے کی تجوریاں بھرنے کے لئے کرپشن کا ذریعہ بنا دیا۔ دوسرے نمبر پر وہ حکمراں رہے جو باری باری حکمرانی تو کرتے رہے لیکن قبائلی عوام کو بنیادی آئینی اور انسانی حقوق دینے سے گریز کرتے رہے۔ میاں نوازشریف نے سرتاج عزیز کی قیادت میں کمیٹی بنا کر قبائلی عوام کا محسن ہونے کا تاثر دیا لیکن افسوس کہ دودھ دیتے ہوئے اس میں اتنی مینگنیاں ڈالیں کہ محسن کی بجائے وہ بھی مجرموں کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ سرتاج عزیز کمیٹی نے انضمام کے بعد اقتصادی، انتظامی اور سیاسی حوالوں سے ایک روڈ میپ بھی تیار کیا تھا اور اگر گزشتہ حکومت رپورٹ کی تیاری کے فوراً بعد انضمام کرلیتی تو اس روڈ میپ پر عمل کا وقت بھی میسر آجاتا لیکن افسوس کہ میاں نوازشریف نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اپنی حکومت کے آخری ہفتے تک پارلیمنٹ سے منظوری سے گریز کیا۔

جاتے جاتے فاٹایوتھ جرگےکے فورم سے قبائلی نوجوانوں کی تحریک اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی دلچسپی سے سابقہ حکومت کے آخری ہفتے میں پارلیمنٹ سے ترمیم کے ذریعے فاٹا کو آئینی لحاظ سے خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا۔ لیکن چند روز بعد نگراں حکومتیں قائم ہوئیں اور انتخابات کا غلغلہ بلند ہوا۔ نگراں حکمرانوں کو نہ تو فاٹا کے انضمام کے معاملے کا ادراک تھا، نہ سرتاج عزیز صاحب کے تیار کردہ روڈ میپ کی سمجھ تھی اور نہ فاٹا انضمام ان کی ترجیحات میں شامل تھا۔ چنانچہ نگراں دورمیں اس روڈ میپ پر رتی بھر بھی عمل نہ ہوسکا۔ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مرکز اور خیبر پختونخوا میں قائم ہوئی اور چونکہ آخری وقتوں میں عمران خان بھی پختونخوا کے ساتھ فاٹا کے انضمام کے حامی تھے اور اس نام پر لوگوں سے ووٹ بھی سمیٹے تھے اس لئے یہ توقع کی جارہی تھی کہ ان کی حکومت انضمام کے عمل کو خصوصی توجہ دے گی لیکن افسوس گنگا الٹی بہنے لگی۔

جو حشر اسد عمر صاحب نے معیشت کاکردیا ہے، اس سے برا حشر پی ٹی آئی حکومت فاٹاانضما م کے عمل کا کررہی ہے۔ انضمام کے عمل کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پہلا قدم این ایف سی ایوارڈ میں سے تین فیصد حصہ مختص کرنے کا تھا جو سالانہ سو ارب روپے سے زائد بنتے ہیں لیکن نیازی صاحب کی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے لئے تادم تحریر کوئی حرکت نہیں کی ہے۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ وفاقی حکومت اپنے بجٹ سے انضمام پر عمل کے لئے مذکورہ سو ارب روپے فراہم کرتی لیکن اب تک بیس ارب روپے بھی فراہم نہیں کئے گئے اور نہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہے۔

بدقسمتی سے وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے عمل کو بھی اپنے روایتی سیاسی حربوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ انضمام کے بعد سا بقہ فاٹا کے تمام معاملات کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس آگیا ہے اور قانون سازی سے لے کرانتظامی معاملات تک ہر چیز کا اختیار اب اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کے پاس ہے جس طرح کہ سکھر کا سندھ حکومت یا پھر ڈیرہ غازی خان کا پنجاب حکومت کے پاس ہے۔ یوں انضمام پر عمل درآمد کے لئے صرف اس کمیٹی کو فعال بنانا چاہئے تھا جو شاہد خاقان عباسی کے دور میں وزیراعظم کی زیرصدارت قائم ہوئی تھی اور جس کے ممبران میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آرمی چیف بھی شامل تھے اور جس میں گورنر اور کورکمانڈر بھی بیٹھتے تھے لیکن وزیراعظم نے سب سے پہلے انضمام کے عمل کی تکمیل کے لئے وفاقی وزیر مذہبی امورکی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی جس میں ان کی پارٹی میں نئے شامل ہونے والے فاٹا کے ایسے سینیٹر بھی ممبر بنادئیے جنہوں نے آخری دم تک فاٹاکے انضمام کی مخالفت کی تھی۔

اس کمیٹی پر پی ٹی آئی کے گورنر شاہ فرمان بھی معترض تھے اور وزیراعلیٰ بھی کیونکہ ایک گورنر کی حیثیت سے اور دوسرے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اس معاملے کی قیادت اپنا استحقاق سمجھتے تھے۔ چنانچہ یہ ایک نمائشی کمیٹی ثابت ہوئی اور آج تک ایک آدھ نمائشی اجلاس کے سوا اس نے کوئی کام نہیں کیا۔ ۔ دوسری طرف پرویز خٹک کے تجربے سے تائب ہوکر اب کی بار وزیراعظم صاحب نے پنجاب کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی کمزور اور بے ضرر وزیراعلیٰ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ خیبر پختونخوا کے حصے میں محمود خان صاحب آئے جو بس شریف آدمی ہیں۔ ان کے مقابلے میں عاطف خان اور شہرام ترکئی جیسے مضبوط اور وزیراعظم سے دوستی کا دم بھرنے والے وزرا موجود ہیں۔ ادھر سے اسد قیصر اور پرویز خٹک کا گروپ ان کے مقابلے میں کھڑ ا ہے۔ ا س لئے وہ ہمہ وقت اپنی وزارت اعلیٰ بچانے کی فکر میں مگن رہتے ہیں۔ وہ اگر اپنے آپ کو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ثابت کرسکیں تو بہت بڑا کارنامہ ہوگا کجا کہ سابقہ فاٹا جیسے معاملات پر توجہ دے سکیں۔

انہیں اگر قبائلی علاقوں میں کوئی دلچسپی ہے تو صرف معدنیات کی حد تک ہے اور اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ ماضی میں گورنر خیبر پختونخوا ہی قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹو ہوا کرتے تھے لیکن انضمام کے بعد گورنر خیبر پختونخوا کے انتظامی معاملات سے اسی طرح بے دخل ہوگئے ہیں جس طرح دیگر صوبوں کے گورنر ہیں لیکن اب یہاں صورت حال یہ ہے کہ گورنر وزیراعظم کے پرانے ساتھی اور قریبی دوست ہیں۔ لیکن دوسری طرف وزیراعلیٰ پی ٹی آئی میں نئے ہیں اور وزیراعظم کے ساتھ ان کی ذاتی قربت نہیں۔ یوں پہلے دن سے دونوں کے مابین اختیارات کی جنگ چل رہی تھی اور اب شاید وزیراعظم کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ ان کے وزیراعلیٰ کم ازکم انضمام کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے تو انہوں نے نوٹیفکیشن جاری کرکے امن وامان، بلدیاتی نظام اور اسی طرح کے کئی دیگر معاملات گورنر کے سپرد کردیئے۔ گویا اب قبائلی علاقہ جات میں پولیس کی بھرتی وغیرہ گورنر کی ذمہ داری ہوگی لیکن آئی جی پی وزیراعلیٰ کے ماتحت ہیں۔

اسی طرح لااینڈ آرڈر کے لحاظ سے ڈی سی اوز کو گورنر کا جوابدہ بنا دیاگیاہے لیکن ان کے باس چیف سیکرٹری ہوں گے جن کے باس وزیراعلیٰ ہیں۔ یوں اب تماشہ یہ ہے کہ صبح قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے گورنر ہائو س میں اجلاس ہوتا ہے اور شام کو وزیراعلیٰ ہائوس میں۔ ایک ہی دن میں انضمام کے بارے میں گورنر کا ایک طرح کا بیان آجاتا ہے اور وزیراعلیٰ کا دوسری طرح کا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مجھے ڈر ہے کہ انضمام کے عمل کے وہ مثبت اثرات کبھی مرتب نہیں ہوں گے جن کی خاطر یہ کیا گیا تھا بلکہ الٹ نتائج کا بھی خدشہ ہے۔ میری گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اگر روایتی سیاست کرنی ہے تو دیگر معاملات پر کرے لیکن انسانی زندگیوں اور پاکستان کی سلامتی کے اس اہم معاملے پر نہ کرے۔

بے کار کمیٹیوں اور اختیارات کی دھینگامشتی کی بجائے اس کمیٹی کو فعال کیا جائے جو شاہد خاقان عباسی کے دور میں قائم ہوئی تھی۔ سرتاج عزیز نے انضمام کے لئے جو روڈ میپ تیار کیا تھا وہ بہت جامع ہے، اس کو سامنے رکھ کر یہ کمیٹی عمل درآمد کے لئے عملی اقدامات یقینی بنائے۔ اگر سرتاج عزیز کو اس کمیٹی کا رکن بنا دیا جائے توبہت بہتر ہوگا۔ ا س کمیٹی کے آرمی چیف بھی رکن ہیں، گورنر بھی اور وزیراعلیٰ بھی جبکہ کورکمانڈر پشاور بھی اس میں بیٹھتے تھے۔ اسی طرح وزیراعظم صاحب فوری طور پر انضمام کے عمل کے لئے تمام ملکی سیاسی قیادت سے پارلیمنٹ کے فلور پر کئے گئے وعدے کے مطابق اس سال کے لئے کم ازکم سو ارب روپے فراہم کردیں۔ نہیں تو خاکم بدہن قبائلی علاقوں میں ایک اور بحران کا انتظار کریں جس کی بہت بھاری قیمت پھر پوری قوم کو ادا کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں