پاکستانی خبریں

اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری، گرین بیلٹ پر قائم 30 سال پرانا کھنہ پولیس اسٹیشن مسمار

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کھنہ پل انٹرچینج کے قریب گرین بیلٹ پر قائم 30 سال پرانا کھنہ پولیس اسٹیشن مسمار کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موقع پر کارروائی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن کو عارضی طور پر کرائے کی عمارت میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ سی ڈی اے پولیس کے لیے نئی عمارت تعمیر کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی اصل خوبصورتی بحال کرنا اور گرین بیلٹس کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی اور اپنے اداروں کے لیے بھی وہی چیک اینڈ بیلنس رکھا جا رہا ہے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ چند روز قبل مہرہ کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک مکمل تنصیب بھی ہٹائی گئی تھی جہاں اب عوامی پارک تعمیر کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ تجاوزات ختم کرنے کے ساتھ متاثرہ افراد کو متبادل جگہیں فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔خاص طور پر ریڑھی بانوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے مارکیٹس میں مخصوص جگہیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ عوامی مقامات پر قبضہ کیے بغیر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

اسلام آباد میں 10 نئے پولیس اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے 10 نئے پولیس اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے۔ابتدائی طور پر وفاقی دارالحکومت کے تمام 27 پولیس اسٹیشنوں کی عمارتیں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، اب تک 8 یا 9 پولیس اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش مکمل ہوچکی ہے جبکہ باقی منصوبوں کے لیے زمین مختص کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں جدید پولیس اسٹیشن تعمیر کرنا چاہتی ہے تاکہ شہریوں کو پولیس خدمات کے حصول میں آسانی ہو۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان پولیس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پولیس فورسز کے درمیان رابطے بہتر بنانے کی ضرورت ہے خاص طور پر کھنہ پل اور اسلام آباد ایکسپریس وے کے اطراف پولیس کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملات کو بہتر بنایا جائے گا۔

محسن نقوی نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر کالز غلط شہر کی پولیس کو منتقل ہونے کے معاملے کا جائزہ لینے اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر اسے حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں ایمرجنسی رسپانس اور فائر فائٹنگ سروسز کو جدید بنانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں آخری فائر انجن 1993 میں فراہم کیے گئے تھے جبکہ 2009 میں پولینڈ کی جانب سے عطیہ کیے گئے 2یا3 اضافی فائر انجن بھی دیے گئے تھے۔

محسن نقوی کے مطابق، اسلام آباد میں ایمرجنسی رسپانس کے لیے 4 نئے مراکز قائم کیے جائیں گے اور 5 موجودہ مراکز کو جدید بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں ایمبولینس اور فائر بریگیڈ سروسز کو ایک مربوط نظام کے تحت چلانے پر کام جاری ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی میں 22 فائر انجن موصول ہوچکے ہیں جبکہ مزید گاڑیاں بھی آرڈر کی گئی ہیں۔ان کے مطابق، 88 میٹر بلند عمارتوں تک پہنچنے والی ایریل لیڈر فائر انجن بھی پہنچ چکی ہے جبکہ بلند عمارتوں میں آگ بجھانے کے لیے اس سے بھی زیادہ بلند فائر انجن حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

محسن نقوی نے اسلام آباد کے ایمرجنسی سروسز کے سابق ڈائریکٹر جنرل کی برطرفی کے معاملے پر بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 45 روز گزر چکے ہیں اور انکوائری رپورٹ متوقع ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق، وزیراعظم اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں اگر کمیٹی متعلقہ افسر کو بے قصور قرار دیتی ہے تو انہیں دوبارہ تعینات کیے جانے کی امید ہے۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے تعاون سے تعمیر ہونے والا مارگلہ انکلیو تقریباً 20 ہزار کنال اراضی پر مشتمل ہے اور اپنے آخری مراحل کے قریب ہے۔

محسن نقوی کے مطابق سیکٹر ای 12 میں ترقیاتی کام دوبارہ شروع ہوچکے ہیں جبکہ سیکٹر سی 14، سی 15، سی 16 اور سی 17 میں بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ان رہائشی سیکٹرز میں بھی ترقیاتی کاموں کی تاخیر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں تقریباً 2 دہائیوں سے کام رکا ہوا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد آئندہ ایک ہفتے سے 10 روز کے دوران متوقع ہے۔

 

Related Articles

Back to top button