چیئرمین پی سی بی نے سرفراز کی کپتانی کے بارے عندیہ دے دیا

ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی دیکھتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کپتان کی تبدیلی کا عندیہ دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے 4 سالوں کیلئے منصوبہ بندی کی جائے گی اور جلدبازی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، ٹیم میں ذہنی پختگی کی کمی ہے۔

احسان مانی نے انٹرویو میں کہا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ان سے پیر کے روز ملاقات کی جس میں صرف ٹیم کی کارکردگی سے متعلق بات ہوئی اور یہ بات قطعاً درست نہیں ہے کہ ان کے معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہو۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے چیئرمیں بننے سے پہلے کوچنگ سٹاف کی تقرریاں کی گئی تھیں اور چونکہ پاکستانی ٹیم انہوں نے کسی قسم کی تبدیلی کو مناسب نہیں سمجھا لیکن اب ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی کارکردگی کو ہر لحاظ سے پرکھا جائے گا۔

احسان مانی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

ان کے مطابق ٹیم ابتدائی میچوں میں ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور انڈیا کے خلاف اچھا نہ کھیل سکی لیکن اس کے بعد اس نے اچھی کارکردگی دکھائی جس سے اندازہ ہوا کہ پاکستانی ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتی ہے تاہم اس میں ذہنی پختگی کی کمی ہے جس پر کام ہونا ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم میں نوجوان کی صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ چیف سلیکٹرانضمام الحق کی ورلڈ کپ میں کوچنگ سٹاف اور ٹیم منیجمنٹ کے کام میں مداخلت کا سبب بنی۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف میچ کے دوران سٹیڈیم کی فضائی حدود میں جہاز سے لہرائے گئے سیاسی بینرز پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے باضابطہ تحریری شکایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں