مونگ کوک میں کھیلے گئے اہم میچ کا ٹاس پاکستان نے جیتا اور پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، بھارت نے مقررہ 6 اوورز میں 88 رنز بنائے۔
بھارت کی جانب سے ششانک سنگھ نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 11 گیندوں پر 40 رنز بنائے جس میں 2 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔نتیش رانا نے 14 گیندوں پر 19 رنز اسکور کیے جبکہ راہول ترپاٹھی 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ٹی نتراجن 12 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، بھارت کی پوری ٹیم مقررہ 6 اوورز میں 88 رنز بنا سکی۔
پاکستان کی جانب سے عبدالصمد نے ایک اوور میں 10 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ احمد دانیال اور محمد شہزاد نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
89 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے جارحانہ آغاز کیا، خواجہ نافع اور کپتان عباس آفریدی نے بھارتی بولرز کے خلاف تیز رفتار بیٹنگ کی۔
عباس آفریدی نے صرف 8 گیندوں پر 35 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی جس میں ایک چوکا اور 5 چھکے شامل تھے۔
خواجہ نافع نے بھی بھارتی بولرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے 12 گیندوں پر 41 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 2 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔دونوں بلے بازوں نے پہلی وکٹ کے لیے 59 رنز کی شراکت قائم کی۔
عبدالصمد 7 اور عرفان خان 6 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، پاکستان نے مطلوبہ ہدف صرف 3.5 اوورز میں حاصل کیا،پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے کپتان عباس آفریدی کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
قبل ازیں ہانگ کانگ انٹرنیشنل سُپر سکسز کے گروپ سی کے میچ میں متحدہ عرب امارات نے دفاعی چیمپئن پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دی۔
ایونٹ میں گرین شرٹس ٹائٹل کا دفاع کررہے ہیں، 2025 کا فائنل پاکستان نے جیتا تھا۔فیصلہ کن معرکے میں کویت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مونگ کوک میں کھیلے گئے میچ کا ٹاس پاکستان نے جیتا اور پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان نے مقررہ 6 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 106 رنز بنائے جس کے جواب میں متحدہ عرب امارات نے مطلوبہ ہدف آخری گیند پر 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز خواجہ نافع اور عبدالصمد نے کیا تاہم خواجہ نافع 4 گیندوں پر 3 رنز بنا کر محمد فاروق کی گیند پرزاہد علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔اس کے بعد عبدالصمد اور کپتان عباس آفریدی نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کا اسکور تیزی سے آگے بڑھایا۔
عباس آفریدی نے صرف 13 گیندوں پر 53 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی جس میں ایک چوکا اور 8 چھکے شامل تھے۔ وہ ریٹائرڈ آؤٹ ہوئے۔عرفان خان 3 گیندوں پر 8 رنز بنا کر محمد فاروق کی گیند پر آؤٹ ہوئے،عبدالصمد نے 15 گیندوں پر ناقابل شکست 39 رنز بنائے جس میں 5 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے جبکہ سعد مسعود ایک رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
107 رنز کے ہدف کے تعاقب میں متحدہ عرب امارات کو اس وقت ابتدائی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب انش ٹنڈن پہلی ہی اوور میں ایک رن بنا کر عباس آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
محمد ذوہیب 4 گیندوں پر 7 رنز بنا کر عبدالصمد کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ معروف مرچنٹ 3 گیندوں پر 2 رنز بنا کر ریٹائرڈ آؤٹ ہوگئے، اس کے علاوہ محمد فاروق ریٹائرڈ آؤٹ ہوئے۔
تاہم کپتان خالد شاہ نے پاکستانی بولرز کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے میچ کا رخ تبدیل کردیا۔انہوں صرف 20 گیندوں پر 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 3 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ وہ عرفان خان کی گیند پرخواجہ نافع کو کیچ دے بیٹھے
خالد شاہ کے آؤٹ ہونے کے بعد زاہد علی نے 8 گیندوں پر 22 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور آخری گیند پر چھکا مار کر ٹیم کو فتح دلا دی، ان کی اننگز میں 2 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
پاکستان کی جانب سے عباس آفریدی، عبدالصمد اور عرفان خان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔خالد شاہ کو 20 گیندوں پر 71 رنز کی ناقابل شکست جارحانہ اننگز پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
واضح رہے ٹورنامنٹ میں شریک 12 ٹیموں کو3، 3 ٹیموں پر مشتمل 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گروپ اے میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور ہانگ کانگ، گروپ بی میں بنگلا دیش، اسکاٹ لینڈ اور سری لنکا جبکہ گروپ سی میں پاکستان،بھارت اوریو ای اے ، گروپ ڈی میں افغانستان ، اومان اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں شامل ہیں۔