پاکستانی خبریں

حکومت نے ملک میں عام انتخابات کیلئے بجٹ میں 42.41 ارب روپے مختص کر دئیے

وفاقی حکومت نے ممکنہ طور پر اکتوبر یا نومبر 2023ء میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 42.41 بلین روپے مختص کیے ہیں۔ سیکیورٹی کے لیے 15 ارب روپے کی رقم بھی مختص کی ہے۔

بجٹ میں پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور ووٹنگ کے لیے 5 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے 4 ارب 83 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح انتخابی فہرستوں کی چھپائی کے لیے 270 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وفاقی حکومت نے الیکشن ٹریننگ ونگ کے لیے ایک ارب 79 کروڑ روپے بھی مختص کیے ہیں۔ میڈیا کوآرڈینیشن کے لیے 500 ملین روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔

انتخابی تیاریوں کے لیے اگلے بجٹ میں 1.2 ارب روپے سے زائد کی رقم بھی رکھی ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے وفاق نے پنجاب میں انتخابات کے لیے بجٹ میں تقریباً 9.65 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے لیے تقریباً 3.95 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔

دوسری طرف سندھ میں انتخابات کے لیے تقریباً 3.65 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بلوچستان کیلئے 1 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پورے ملک میں انتخابات کے انعقاد کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی تھی۔

تاہم وفاقی حکومت نے انتخابی نگراں ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسے انتخابات کے انعقاد کے لیے 47 ارب روپے فراہم کرے گی۔ مرکز الیکشن کے لیے ای سی پی کو پہلے ہی 5 ارب روپے فراہم کر چکا ہے۔

ایک حیران کن پیشرفت میں ای سی پی نے مارچ میں پنجاب میں انتخابات کو 8 اکتوبر تک اس بنیاد پر مؤخر کر دیا وہ 30 اپریل کی مقررہ تاریخ پر شفاف اور پرامن انتخابات نہیں کروا سکا۔

آٹھ صفحات پر مشتمل حکم نامے میں ای سی پی نے کہا کہ وہ سیکیورٹی کے خطرات اور فنڈز کی عدم موجودگی کی وجہ سے دیانتداری، انصاف اور پرامن طریقے سے الیکشن نہیں کروا سکتا اور تمام سیاسی جماعتو کے لیے میدان میں یکساں مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

پنجاب اسمبلی کو اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے جنوری میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر تحلیل کر دیا تھا۔ عمران نے کے پی اسمبلی کو بھی تحلیل کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اسی ماہ تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ حکومت پر قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

سپریم کورٹ بھی عمران کی مدد کو پہنچی، 4 اپریل کو حکم دیا پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرائے جائیں۔ تاہم 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے بدعنوانی کے مقدمے میں عمران خان کی گرفتاری گیم چینجر ثابت ہوئی کیونکہ ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کو جنم دیا جس میں سول اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ .

Related Articles

Back to top button