پاکستانی خبریں

مقبوضہ کشمیر: مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو دو ہفتے مکمل ہوگئے، عوام پر لگائی گئی پابندیاں برقرار

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کو دو ہفتے مکمل ہوگئے ہیں، کشمیری عوام پر لگائی گئی پابندیاں برقرار اور معمولات زندگی تاحال منجمد ہیں۔

بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرنے سے متعلق بل راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔
مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کرنے سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا جسے آج دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنسان سڑکوں پر قابض بھارتی فورسز کا گشت مسلسل 14 ویں روز بھی جاری ہے اور حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں قید ہیں۔

کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ کرفیو اور جگہ جگہ بھارتی فورسز کے ناکوں کے باوجود صورہ، رعنا واری، نوہٹا اور گوجوارہ سمیت کئی علاقوں میں کشمیریوں کے بھارت مخالف مظاہرے کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ، پیلٹ گنز اور شیلنگ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک کشمیری نوجوان محمد ایوب شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال کے اعلیٰ حکام نے 2 درجن سے زائد مظاہرین کے پیلٹ گن کے چھڑے لگنے سے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ سری نگر کے علاقے بمنہ میں بھارتی فوج نے گھروں کی تلاشی کے دوران شہریوں پر تشدد کیا اور گھروں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

گزشتہ روز بھی سری نگر میں کرفیو کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔
کے ایم ایس کے مطابق قابض بھارتی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ اور پیلٹ گنوں کے استعمال سے متعدد کشمیری زخمی ہوئے، بھارتی فورسز نے متعدد علاقوں میں گھروں پر چھاپے مار کر 6 کشمیریوں کو حراست میں لیا۔

کشمیر میڈیا سروس نے بتایا کہ بھارتی پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات سمیت دیگر اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور چین نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کو یکطرفہ اور غیرقانوی فیصلہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

پاکستان کے مطالبے پر 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بھی بلایا گیا تھا جس میں کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button