پاکستانی خبریں

افسوس پاکستان جس خواب پر بنا تھا، ہم اس سے بہت دور چلے گئے، وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کابینہ اجلاس سے قبل ہر وزارت سے پوچھیں کہ انہوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر کرنے کے لیے کیا کام کیا۔

اسلام آباد میں خصوصی افراد کے لیے صحت سہولت پروگرام کے آغاز کے موقع پر تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے اپنے وژن کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وژن انسان کا روڈ میپ ہوتا ہے، یہ وہ مقصد ہوتا ہے، جس پر انسان ساری زندگی محنت کرکے پہنچتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ قوموں کی بھی وژن ہوتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان جس خواب پر بنا تھا، ہم اس سے بہت دور چلے گئے ہیں، تاہم ہم نے واپس اسی وژن پر لانا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وژن یہ تھا کہ اسے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر ایک فلاحی ریاست بنایا جائے، مدینہ کی ریاست کے بارے میں ہر بار اس لیے بتاتا ہوں تاکہ بچے، بچے کو پتہ چل سکے کہ وہ کیا ریاست تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست ایک جدید ریاست تھی، اس میں جدید تصورات تھے، اس کی بنیاد 2 اصولوں انسانیت اور انصاف پر کھڑی ہوئی تھی اور ایک مہذب معاشرے اور جانوروں کے معاشرے میں یہی فرق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں انصاف ہوتا نا انسانیت ہوتی، وہاں رحم نہیں ہوتا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا حساب ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ہمارے لیے رول ماڈل ہیں اور ان کی سنت پر چل کر ہم کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ دنیا کی عظیم شخصیت ہمارے نبیﷺ کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ کے سب سے کامیاب انسان میں سب سے اول حضورﷺ کا نام ہے، اس لیے ہمیں کہا گیا کہ ان کی زندگی سے سیکھو اور شریعت پر چلو۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہ ہم بہت بڑی غداری کرتے ہیں کہ اپنے وژن کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، ہمارے سربراہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایشین ٹائگر یا لاہور کو پیرس بنا دوں گا، یہ ان کی وژن ہے لیکن پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو وہ ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں انسانیت اور عدل و انصاف ہو اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جب نبیﷺ کی شریعت پر چلا جائے گا تو قوم کو اوپر اٹھا دیا جائے گا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نچلے طبقے کو اوپر لائے اور جب انسان کے معاشرے میں رحم ختم ہوجاتا تو وہ عقلمند جانور رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن ہے کہ کمزور طبقے کی مدد کریں، احساس پروگرام وہ ہے جس کو سوچ سمجھ کر شروع کیا گیا ہے، اس پر تفصیل سے کام کیا گیا ہے، ہمارا مقصد ایسا پروگرام لانا ہے کہ ملک میں جتنے ادارے غریبوں کے لیے کام کررہے ہیں ان کا ڈیٹا مرتب کریں اور سب ایک جگہ سے کام کریں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے اندر سب سے اہم صحت سہولت کارڈ پروگرام ہے، تحقیق میں واضح ہوا ہے کہ جب ایک غریب گھرانے میں بیماری آتی تو وہ پورے گھر کا بجٹ خراب کردیتی ہے اور بیماری انسان کو غربت کی لکیر کے نیچے لے جاتی ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 25 سے 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے ارد گرد یا نیچے ہیں، لہٰذا ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم انہیں صحت انشورنس دیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ لوگوں کی زندگی بہتر کرے، لہٰذا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہفت وار ہونے والے کابینہ کے ہر اجلاس سے قبل ہر وزارت بتائے کہ وہ کیا ایسا کام کرے گی، جس سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہو۔

Related Articles

Back to top button