شفیق استاد شعبہ صحافت کا ایک اور دمکتا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا

شفیق استاد شعبہ صحافت کا ایک اور دمکتا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا

شعبہ صحافت کا ایک اور دمکتا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۔ رپورٹر و سینئیر صحافی طارق محمود ملک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔انہیں تین ہفتے قبل کورونا ہوا تھا اور کئی روز سے راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں ونٹی لیٹر پر تھے۔ مرحوم کی نمازجنازہ آبائی علاقہ تلہ گنگ میں ادا کردی گئی ہے۔

سینئیر رپورٹر طارق محمود ملک کے انتقال پر حکومتی شخصیات، صحافتی تنظیموں اور برطانوی ہائی کمیشن نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

سینئیرصحافی کے انتقال پر دفتر خارجہ نے ہفتہ بریفنگ بھی ملتوی کردی ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل پریس کلب کا پرچم تین روز تک سرنگوں رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ کاصحافی طارق محمود ملک کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ طارق محمود ملک ایک شاندار صحافی اور ہماری فیملی کا اہم حصہ تھے۔

ہائی کمیشن نے کہا کہ طارق ملک مددگار اور مہربان تھےانہوں نے بہت سے دوستوں کا دل جیتا۔ ہماری دعائیں اس مشکل وقت میں پر اپنے پیاروں کے ساتھ ہیں۔

طارق محمود ملک کا تین ہفتے پہلے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ وہ کئی روز سے راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔

طارق محمود ملک نے کئی ٹی وی چینلز میں صحافتی خدمات سرانجام دیں۔ وہ دفاع اور امور خارجہ کی اہم بیٹس کور کیا کرتے تھے۔

طارق محمود ملک نے نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں بطوراستاد بھی خدمات انجام دیں، ان کے سینکڑوں شاگرد آج ایک عظیم استاد سے محروم ہوگئے۔ طارق محمود ملک نے اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ طارق محمود ملک ایک زیرک اور منجھے ہوئے رپورٹر تھے، اللہ تعالیٰ اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے بھی سنیئر صحافی طارق ملک کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ طارق ملک ایک کہنہ مشق صحافی تھے جن کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے سینئر صحافی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں