سپریم کورٹ نے انورسیف اللہ اور صفدر عباسی کے خلاف نیب اپیلیں خارج کردیں

سپریم کورٹ نے سابق وزیر انور سیف اللہ اور سابق سینیٹر صفدر عباسی کے خلاف نیب اپیلیں خارج کردیں، عدالت نے انور سیف اللہ اور صفدر عباسی کی ایل این جی کوٹہ کیس میں بریت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئےکہ نیب کا کیس ہے کہ وزیر نے اپنی صوابدید پر کوٹہ دیا، انور سیف اللہ کی جانب سے کوٹہ دینے کے ثبوت کدھر ہیں؟ ریکارڈ میں کسی جگہ وزیر کی جانب سے کوٹہ دینے کا حکم یا دستخط نہیں، کیا کیس چلانےکا یہ طریقہ ہے۔

ایل این جی کوٹہ کیس میں سابق وزیرانور سیف اللہ اور سابق سینیٹر صفدر عباسی کی بریت کا معاملہ،، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیب کی اپیلوں پرسماعت کی، دوران سماعت نیب کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ انور سیف اللہ نے بطور وزیر پٹرولیم گیس کوٹہ جاری کیا، انور سیف اللہ کو کوٹہ دینے کا اختیار نہیں تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ رولز کے تحت کوٹہ دینے کی مجاز اتھارٹی کون تھی؟ وکیل نیب نے جواب دیا کہ ریکارڈ پر مجاز اتھارٹی کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں،جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ نیب کا کیس ہے کہ وزیر نے اپنی صوابدید پرکوٹہ دیا، نیب نے ثابت کرنا ہے کوٹہ دینے کا اختیار کس کا تھا، ریکارڈ میں کسی جگہ وزیر کا کوٹہ دینے کا حکم یا دستخط نہیں، کیا کیس کو چلانے کا یہ طریقہ ہے، انور سیف اللہ کی جانب سے کوٹہ دینے کے ثبوت کدھر ہیں؟

عدالت نے سابق وزیر انور سیف اللہ اور سابق سینیٹر صفدر عباسی کے خلاف نیب اپیلیں خارج کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں