تحریکِ پاکستان کا اہم جزو، محترمہ فاطمہ جناح کو قوم سے بچھڑے 52 برس بیت گئے

مادر ملت محترمہ فاطمہ علی جناح کو جدا ہوئے 52 (باون) برس بیت گئے۔

مادر ملت محترمہ فاطمہ علی جناح 31جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بچپن میں ہی والدین کی شفقت سے محروم ہوگئیں۔ (1922) انیس سو بائیس میں انہوں نے دندان ساز کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے گھریلو اور سیاسی زندگی میں اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی کا ساتھ دینا شروع کردیا۔

قائداعظم کا ساتھ دیتے ہوئے محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان اور ملک کیلئے بے مثال کردار ادا کیا۔ انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔

محترمہ نے قائداعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان تر کر دیا۔ ان کی گراں قدر خدمات پر قوم نے انہیں “مادر ملت” کا خطاب دیا۔

ایک موقع پر خود قائداعظم نے اپنے سیکرٹری کرنل برنی سے اپنی عظیم بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’وہ اپنی بہن کی سالہا سال کی پرخلوص خدمات اور مسلمان خواتین کی آزادی کیلئے انتھک جدوجہد کی وجہ سے ان کے انتہائی مقروض ہیں۔‘‘ایک اور موقع پر قائداعظم نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’جن دنوں مجھے برطانوی حکومت کے ہاتھوں کسی بھی وقت گرفتاری کی توقع تھی تو ان دنوں میری بہن ہی تھی جو میری ہمت بندھاتی تھی۔ جب حالات کے طوفان مجھے گھیر لیتے تھے تو میری بہن میری حوصلہ افرائی کرتی۔‘‘محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات کا اعتراف ان کے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کی زبان سے ہونے کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

محترمہ فاطمہ علی جناح 9 جولائی 1967 کو 73 (تہتر) برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کرگئیں، پاکستانی قوم ان کی گراں قدر قومی خدمات پر انہیں آج بھی یاد کرتی ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں