نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا جنہوں نے چینی اور گندم بحران پیدا کیا؟ مرتضیٰ وہاب

نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا جنہوں نے چینی اور گندم بحران پیدا کیا؟ مرتضیٰ وہاب

ترجمان حکومت سندھ نے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چھاپے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگست 2018 میں بننے والے نئے پاکستان میں عزت و احترام نام کی کوئی چیز نہیں، اداروں کی حرمت کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات، آج کل کے مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جو ادارے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی پذیرائی کی جاتی ہے تا کہ اس میں کام کرنے والے افراد اطمینان کے ساتھ اپنا کام کرتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے اگست 2018 میں بننے والے نئے پاکستان میں عزت و احترام نام کی کوئی چیز نہیں، اداروں کی حرمت کچھ نہیں، لوگوں کو عوام کی خدمت کی جانب مدعو کرنا عمران خان حکومت کی ترجیح نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں نیب سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کرتا تھا لیکن اب لگتا ہے عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے اداروں کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے تعلق ہونے کی بنا پر ریڈار پر رکھنے اور ان کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے اداروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک شرمناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) وفاقی حکومت نے 60 سال قبل کراچی میں قائم کیا تھا تاہم اس ادارے کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ اس وقت اججاگر ہوئی جب 2010 میں یہ 18ویں ترمیم کے بعد حکومت سندھ کے ماتحت ہوا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ 15-2014 میں بلاول بھٹو کے وژن کے تحت این آئی سی وی ڈی کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت سندھ حکومت نے ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹھی، سیہون، خیر پور، نوابشاہ، لاڑکانہ، سکھر اور لیاری میں اس کے 10 مراکز قائم کیے۔
انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سینٹر کے قیام کے بعد ان علاقوں سے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی آنے کی ضرورت نہیں اور ملک کے کسی حصے میں ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جہاں اس قسم کے علاج معالجے کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے این آئی سی وی ڈی کے 18 چیسٹ پین یونٹ قائم کیے ہیں جس کا دنیا بھر میں کوئی تصور نہیں جبکہ دل کی تکلیف کی صورت میں ایک ایک لمحہ زندگی کے لیے قیمتی ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں این آئی سی وی ڈی کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی، اسے جنوب مشرقی ایشیا کا امرض قلب کا سب سے بڑا ادارہ قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی مثال آپ کو نہیں ملتی کہ جہاں اتنے بڑے پیمانے پر دل کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔

کچھ اعداد و شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2015 میں این آئی سی وی ڈی نے 6 لاکھ 43 ہزار 557 مریضوں کا علاج کیا، سال 2016 میں 7 لاکھ 29 ہزار 791، سال 2017 میں 10 لاکھ 26 ہزار 243، سال 2018 میں 17 لاکھ 59 ہزار 990، سال 2019 میں 22 لاکھ 91 ہزار 733 اور 2020 اگست تک 10 لاکھ 13 ہزار 800 مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے یوں 5 سال کے عرصے میں 74 لاکھ 65 ہزار سے زائد مریضوں کا مدت علاج کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی میں پورے پاکستان سے مریض آتے ہیں اور سال 2019 کے دوران آزاد کشمیر سے 5 ہزار 329 مریض، بلوچستان سے ایک لاکھ 18 ہزار 44 مریض، گلگت بلتستان سے 3 ہزار 776، خیبرپختونخوا سے 24 ہزار 123 مریض اور پنجاب سے 41 ہزار 534 مریض علاج کے لیے این آئی سی وی ڈی علاج کے لیے آئے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس سب کے باوجود ‘نیازی اکاؤنٹیبلیٹی بیورو’ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے این آئی سی وی ڈی پر نظر جماتا ہے، نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا جنہوں نے چینی اور گندم بحران پیدا کیا اور اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

مزید پڑھیں: وفاق نے کراچی کے ہسپتالوں کا کنٹرول لینے کیلئے ضروری لوازمات پورے نہیں کیے، مرتضیٰ وہاب

ترجمان حکومت سندھ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی رضامندی سے چینی ایکسپورٹ کی جاتی ہے اس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی لیکن ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے کہ انجیکشن کتنے روپے کا لگایا جارہا ہے، کیا نیب کا کام ہسپتالوں کو دیکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ جو اصل میں عوام کا استحصال کررہے ہیں، ان کے اقدامات کو دیکھیں، ایسے لوگوں کا نوٹس لیں بجائے ان کے کہ جو عوام کی خدمت کررہے ہیں کیوں کہ اس سے دنیا میں غلط پیغام گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کے خلاف 4 سالوں سے تحقیقات جاری ہیں اگر انکوائری کرنی ہے تو عزت کے ساتھ کریں لیکن اس کے لیے چھاپہ مارنے کی کیا ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں