عالمی ادارے کی درجہ بندی، لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار

فضا میں آلودگی جانچنے والے عالمی ادارے نے لاہور کو دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا ہے۔

عالمی ادارہ کے مطابق لاہور میں مجموعی طور پر ایئر کوالٹی انڈیکس 352 ریکارڈ کیا گیا ہے، شہر بھر میں نزلہ، زکام، آنکھوں اور گلے کی بیماریاں بڑھ گئیں۔

عالمی ادارہ کی درجہ بندی میں بھارت کے شہر دہلی کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا ہے، دہلی 402 اے کیو آئی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

چائنہ کا شہر چینڈی گو دنیا کا تیسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے، جہاں اے کیو آئی ایک سو چھیاسی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب لاہور کی فضاء بیماریوں سے بھرنے لگی ہے جس کے باعث نزلہ، زکام، آنکھوں اور گلے کی بیماریاں بڑھ گئیں۔

شہر میں سب سے زیادہ آلودگی سندر شملہ پہاڑی کے علاقہ میں ریکارڈ کی گئی جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس چار سو بیس رہا، سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں تین سو ستتر اور سید مراتب علی روڈ گلبرگ میں تین سو انہتر رہا۔

روز بروز فضا میں آلودگی بڑھنے پر شہری پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وائرل انفیکشن کا خطرہ منڈلا رہا ہے، شہریوں کی صحت کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکام ہنگامی اقدامات کریں۔

چند روز قبل لاہور ائیر کوالٹی انڈیکس میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پانچویں نمبر پر آیا تھا۔

فضائی آلودگی جانچنے والے عالمی ادارے کی جاری فہرست کے مطابق دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور کا پانچواں نمبر ہے۔ لاہور بدستور دنیا بھر کے دس آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے جبکہ گوجرانوالہ میں بھی ائیر کوالٹی انڈیکس ایک سو ستاون تک جا پہنچا ہے۔

فضائی آلودگی جانچنے والے عالمی ادارے کے مطابق لاہور میں مجموعی طور پر ائیر کوالٹی انڈیکس ایک سو باون ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ پاکستان کے آلودہ شہروں میں گوجرانوالہ پہلے نمبر پر ہے، جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس ایک سو ستاون ہے۔

عالمی سطح پر ایک سو چوہتر ائیر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ انڈونیشیا کا شہر جکارتہ سرفہرست رہا، دہلی دوسرے، ڈھاکہ تیسرے اور تاشقند چوتھے نمبر پر رہا۔

لاہور میں سب سے زیادہ آلودگی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی۔ کلمہ چوک، اپر مال، شملہ پہاڑی چوک کے علاقے بھی دھوئیں اور آلودگی کی کی لپیٹ میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں