ملک میں آئین کی بالادستی ہوتی تو وزیراعظم، وزیراعلیٰ سے حقیقت جاننے کی کوشش کرتا: شاہد خاقان

مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سندھ پولیس کے سربراہ کے مبینہ اغوا اور آرمی چیف کی جانب سے انکوائری کی ہدایت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس ملک میں آئین کی بالادستی ہوتی تو ملک کا وزیراعظم صوبے کے وزیراعلیٰ کو ٹیلی فون کرتا، ان سے حقیقت جاننے…

اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وفاق اور صوبے کے درمیان ٹکراؤ، آئین کو توڑنے اور ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے کی بات ہے۔

یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو کراچی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے منعقدہ اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد میں نعرے بازی کرنے پر علی الصبح ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔

 

جس کے بعد یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا اور اسی کو وجہ بناتے ہوئے گزشتہ روز پولیس کے متعدد افسران نے چھٹی کی درخواستیں دینی شروع کردی تھی۔

بعدازاں بلاول بھٹو نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو فوری طور پر انکوائری اور جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

شاہد خاقان عباسی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سندھ کے ساتھ ہیں اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں، سندھ پولیس کے افسران نے جو اصولی اسٹینڈ لیا یہ ان کا حق تھا اور پی ڈی ایم کا احتجاج جارہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک میں آئین کی بالادستی ہوتی تو ملک کا وزیراعظم صوبے کے وزیراعلیٰ کو ٹیلی فون کرتا، ان سے حقیقت جاننے کی کوشش کرتا اور اسے حل کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وفاقی ادارے، پاکستان رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلی جنس وزیراعظم کو رپورٹ کرتے ہیں جب وہاں سے کوئی بات نہیں بنی، معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرکے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے گزارش کی کہ ملک کے معاملات کہاں جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں، آئین کیا کہتا ہے، آج ملک کے وزیراعظم نے فوج کو بھی اپنی سیاست میں ملوث کردیا ہے، فوج کا اس معاملے میں کوئی اثر ہے نہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج مصالحت کی کوشش چیف آف آرمی اسٹاف کررہے ہیں، بدنصیبی ہے کہ ملک کا وزیراعظم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وفاق کو صوبے سے ٹکرا رہا ہے جو بڑی تشویشناک بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج سندھ کا ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، جس ملک کے پولیس چیف کو رات کے 4 بجے اغوا کرلیا جائے اس ملک کے عوام، پولیس اور وفاق کے صوبے سے تعلقات کا کیا بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیا کسی نے اس بارے میں سوچا ہے یا تشویش کا اظہار کیا ہے یا وزیراعظم نے کوئی تقریر یا بات کی یا وزرا جو پریس کانفرنس کرتے نہیں تھکتے، انہوں نے کچھ کہا، کیا آپ کو ملک، وفاق یا صوبوں کی پرواہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دوبارہ فوج کو پاکستان کی سیاست میں ملوث کردیا، یہ ہم سب کی بدنصیبی ہے کہ آج جب ہم سب کو معیشت، مہنگائی، بے روزگاری اور عوام کی تکالیف پر بات کرنی چاہیے، ہم صوبے کے آئی جی کو اٹھانے میں مصروف ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یا ملک کا وزیراعظم صوبے کے آئی جی کو اٹھائے گا یا ملک کے معاملات طے کرے گا، یا اس ملک کا وزیراعظم یہ نظر رکھے گا کہ شہباز شریف کو کھانا کونسا دیا گیا، کرسی دی گئی کہ نہیں، یہ ہمارا وزیراعظم آج کررہا ہے اسے عوام کی پرواہ نہیں ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم عوام کی تکلیف، ملک کے معاملات، معیشت سے نا آشنا ہے، صرف انتقام اس کے سر پر چھایا ہوا ہے اور وہ کوشش کر کے ہر قسم کی تکالیف مخالفین کو پہنچانے کی کوشش میں ہے۔

انہوں نے کہا ملک کے وزیراعظم کو پرواہ نہیں کہ آئین کیا کہتا ہے، وہ ملک کے اداروں کو اپنی گھٹیا سیاست میں ملوث کررہا ہے، یہ ملک کی بدنصیبی ہے اور پی ڈی ایم اس سارے معاملے اور وفاقی حکومت کی حرکت کی مذمت کرتی ہے۔

وزیراعظم منظر عام سے ایسے غائب ہیں جیسا ان کا کوئی لینا دینا نہیں، راجا پرویز اشرف

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں عوام کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر وزیراعظم جھجھلا اٹھے ہیں، وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بدنصیبی کی بات ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوجانے کے بعد وزیراعظم کا وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی بھی ذمہ دارانہ بیان سامنے نہیں آیا بلکہ جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے کمرے کا دروازہ توڑنے اور پھر انہیں گرفتار کرنے اور آئی جی کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا، یہ ایسے واقعات ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے عوام میں سخت غم و غصہ پایا گیا۔

راجا پرویز اشرف نے کہا پاکستان کی پوری قیادت جس صوبے میں موجود ہے وہاں ایسا واقعہ پیش آنے سے محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک میں ایسے حالات پیدا کررہی ہے کہ جس سے انتشار، غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو اور سارا نظام عدم استحکام کا شکار ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہوا کیوں، یہ کس کی ذمہ داری تھی، یہ وزیراعظم کی ذمہ داری تھی، وزیراعظم اس پورے منظر عام سے غائب ہیں جیسا ان کا کوئی لینا دینا ہی نہیں۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ دوسرے لفظوں میں یہ محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم کی یہ ڈیوٹی ہی نہیں، ایک صوبے کی پوری پولیس سراپا احتجاج ہے اور وزیراعظم خاموش ہیں، وہ کچھ بھی نہیں کر پارہے تو کیا میں یہ کہوں کہ وزیراعظم جان بوجھ کر سندھ میں ایسے حالات پیدا کرر ہے ہیں جہاں اس کی حکومت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی پر 50-60 افراد روز بیٹھے رہتے ہیں جو قومی اداروں کو سیاست میں ملوث کررہے ہیں، یہ بہت غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کا استحکام غیر متزلزل ہورہا ہے۔

رہنما پییپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ انہی رویوں خاص کر وزیراعظم کے رویے سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ ملک میں جو افراتفری اور غیر یقینی کی صورتحال، ہر شخص پریشان ہے کہ وفاقی حکومت کیا کرنے جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی اداروں کا سب کو احترام ہے لیکن ہم چاہیں گے کہ اس طرح کا واقعہ دوسرے صوبوں میں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قومی اداروں کے درمیان کوئی بھی غلط فہمی کا کسی بھی قسم کا ٹکراؤ پاکستان کے حق میں نہیں، وہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہوگا۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ وزیراعظم کو سامنے آکر قوم کو حقائق بتانے چاہیے لیکن وہ لاتعلق ہو کر چھپے بیٹھے ہیں، اگر آپ کا تعلق نہیں تو آپ کیسے وزیراعظم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو فوری طور پر ٹیلی ویژن پر آنا چاہیے تھا، پولیس کے مورال کو ہائی کرنا چاہیے تھا، آپ کو وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح کی نئی چیزیں سامنے آرہی ہیں یہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ ہر ملک یا علاقے میں ایک فوج ہوتی ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں لیکن دیگر اداروں اور محکموں نے مل کر پاکستان بنانا ہے، پولیس نے بھی قربانیاں دی ہیں، ہم نے نفرتوں کے بیج نہیں ڈالنے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس وقت بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی ہوگی، نفرت پھیلانے سے نفرت ختم نہیں ہوگی، آپ کو ایک مدبر سیاستدان کی طرح معاملات دیکھنے چاہیے، آپ ذاتیات پر اتر آئے ہیں، آپ کو منہ پر ہاتھ پھیر کر اشارے کررہے ہیں وہ وزیراعظم کے شایان شان نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں