مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں نوجوان دکاندار کی شہادت پر دفتر خارجہ کا ردعمل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں نوجوان دکاندار کی شہادت پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 23 سالہ کشمیری دکاندار کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ عرفان احمد ڈار کو گھر سے اٹھا کر پولیس تحویل میں تشدد کرکے قتل کیا گیا، قابض فوج کشمیری نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہی ہے، بھارت ریاستی دہشت گردی سے کشمیری عوام کی خواہشات کو دبا نہیں سکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک سال میں 300 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا، بھارت ماضی میں بھی کشمیریوں کو تشدد، جبری گمشدگیوں سے محکوم بنانے میں ناکام رہا، بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتا۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرے، سنگین جرائم کے مرتکب بھارت کو عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال کا نوٹس لینا چاہئے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے علاقے سوپور میں بھارتی فوج نے حراست میں لیے جانے والے نوجوان عرفان احمد ڈار کو حراست کے دوران شہید کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں