کراچی میں مخدوش عمارتیں گرانے کا حکم جاری

کراچی میں پانچ عمارتیں گرنے اور پچاس سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت جاگ اٹھی۔ کمشنر کراچی نے شہر میں مخدوش اور انتہائی خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو گرانے کا حکم دے دیا ہے۔

شہر قائد میں متعدد عمارتیں گرنے کے واقعات ہوئے۔ جس میں پچاس سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔

انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے لیا بڑا فیصلہ۔ ڈپٹی کمشنرساؤتھ نے لیاری اور صدر ٹاؤن میں قائم مخدوش عمارتوں کی فہرست مرتب کرلی اور مرحلہ وار ایکشن لینے کا حکم دیا ہے۔

کراچی میں مخدوش عمارتیں اور غیر معیاری تعمیرات انسانی زندگیوں کیلئے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے لیاری میں 49 عمارتوں کو انتہائی مخدوش اور خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں اس وقت مجموعی طور پر مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کی تعداد 422 ہے جس میں سب سے زیادہ مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں ہیں۔ جن کی تعداد تین سو سے زائد ہے جو کسی بھی وقت حادثے سے دو چار ہو سکتی ہیں۔

کراچی میں رواں سال پانچ عمارتیں زمین بوس ہوچکی ہیں۔ جن کے تلے دب کر 50 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مارچ میں زمین بوس ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دب کر 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ چالیس گز کے پلاٹ پر بنی ایک عمارت پانچ منزلہ تھی، مالک چھٹی منزل بھی بنارہا تھا کہ پوری عمارت گر گئی جس کی زد میں دیگر دو عمارتیں بھی آئیں۔

دوسری عمارت جون میں لیاری کے علاقے کھڈا مارکیٹ میں گری جس میں 22 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی طرح سندھی ہوٹل کے قریب 5 منزلہ عمارت گری تھی اور یہ واقعہ جولائی میں پیش آیا تھا۔

عمارت گرنے کا چوتھا واقعہ کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں گزشتہ دنوں پیش آیا۔ جس میں ایک 15 سالہ بچہ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

کراچی میں پانچویں عمارت گرنے کا واقعہ13 ستمبر کو پیش آیا جب لیاری کے علاقے کوئلہ گودام میں دو منزلہ عمارت گر گئی اس حادثے میں دو افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں