ختم ہوا انتظار، ملک بھر میں بند تعلیمی ادارے کھل گئے

ملک بھرمیں تعلیمی ادارے آج سے مرحلہ وار کھول دیے گئے ہیں۔ جامعات اور کالجوں کے ساتھ نویں اور دسویں کلاسوں میں بھی آج سے تعلیم کا آغاز ہو گیا ہے۔

اساتذہ اور طلبا کے لیے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکولز میں داخلے سے پہلے سینیٹائزر کا استعمال لازمی کرنا ہوگا۔

ہر بچے کو ماسک بھی لازمی پہننا ہوگا۔ طلبا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں، ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں۔ والدین کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر بچوں کو اسکول نہ بھیجیں۔

تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے اسپرے کیے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے بینرز بھی آویزاں ہیں۔

پہلے مرحلے میں نویں، دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو 15 ستمبر سے اسکول بلایا گیا ہے۔ اس کے ایک ہفتے بعد 23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو اسکول آنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام پرائمری اسکول کے بچوں کو 30 ستمبر سے اسکول جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے لاکھوں بچوں کو اسکولوں میں واپس آنے پرخوش آمدید کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بچے کی حفاظت یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ ہر بچہ محفوظ طریقے سے اسکول جائے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ہم تعلیمی ادارے کھلنے پر پہلے دن طلبہ اور بچوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ مگر احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا مت بھولیے۔ اسکول انتظامیہ والدین، بچوں اور اساتذہ کو مل کر ان تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ کلاس رومز میں مناسب فاصلہ رکھیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں، ماسک پہنیں اور سینیٹائزر استعمال کریں۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں