مسلم لیگ ن نے سی پی او لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

پاکستان مسلم لیگ نواز نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔

ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگ زیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ سی سی پی او عہدے پر موجود ہیں، خواتین کی عزت محفوظ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کہتے ہیں کہ فرانس میں عورتیں محفوظ ہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورتوں کی عزت محفوظ نہیں، کیوں کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے نہ ریاست کی رٹ ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے موٹر وے واقعہ سے متعلق بیان پر برس پڑے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایک پبلک سرونٹ کے بےحسی پر مبنی ریمارکس احمقانہ اور شرمناک تھے۔

انہوں نے لاہور موٹر وے واقعہ کی مذمت کی اور سی سی پی لاہور کے بیان کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو ہمدردی ظاہر کرنی چاہیے کیوں کہ انہیں عوام کی خدمت کیلئے چنا گیا ہے ناکہ حکمرانی کیلئے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے بھی سی سی پی او کے بیان کو غیرذمہ دارار قرار دیا اور کہا کہ ان کا بیان الزام کے مترادف ہے۔

انسانی حقوق شیریں مزاری نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے پر ہولناک واقعے سے متعلق فوری رپورٹ طلب کی ہے، ایف آئی آر کی کاپی اور مقدمے میں پروگریس رپورٹ وزارت کے پاس ہے۔

خیال رہے کہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد عمر شیخ نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ یہ خاتون رات 12 بجے لاہور ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں، حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہونے کے باجود وہ جی ٹی روڈ کیوں گوجرانوالہ نہیں گئیں؟ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی ، وہ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئيں جہاں آبادی تھی؟

عمرشیخ کے اس بیان پر عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے اور انہیں ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سی سی پی او کے بیان پر عوام، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے نمائندوں نے شدید رد عمل دیا اور سوشل میڈیا پر سی سی پی کو ہٹاؤ Remove CCPO ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں