کراچی پیکج میں شامل منصوبے پہلے ہی ‘پی ایس ڈی پی’ کا حصہ ہیں، احسن اقبال نے اہم انکشافات کر دئیے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے عوام کے لیے مفروضوں پر مبنی پیکج کا اعلان کیا جس میں شامل منصوبے پہلے ہی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ ایک نئی جنگ شروع کردی، 1100 ارب روپے کا مفروضوں پر مبنی پیکج کا اعلان کرکے انہوں نے کراچی کے عوام کو ایک لولی پوپ دینے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو منصوبے کراچی پیکج میں شامل کیے گئے ہیں وہ منصوبے پہلے سے پی ایس ڈی پی کے اندر شامل ہیں، ان منصوبوں کی گنتی اور لاگت اس پیکج میں شامل کرکے آپ کراچی کے لیے پیکج نہیں بناسکتے کیونکہ یہ منصوبے پہلے سے ہی کراچی کا ہیں۔

 

احسن اقبال نے کہا کہ کے ٹو، کے فور کا منصوبہ پہلے سے ہی وفاق اور سندھ حکومت چلا رہے تھے، کے سی آر کا منصوبہ پہلے سے ہی پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں آچکا ہے۔

انہوں نے کہا سوال یہ ہے کہ جن غریبوں کے مکانات تباہ ہوئے ہیں اور جن لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے ہیں، کیا وفاقی حکومت نے ان کے لیے کوئی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے اور اس امدادی پیکج کے لیے کتنے وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ سندھ کے اندر فصلیں تباہ ہوئی ہیں ان کے لیے حکومت نے کوئی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے تو اس کا جواب صفر ہے، محض اعداد وشمار کی شعبدہ بازی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کو طفل تسلی دے کر یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کی مدد ہورہی ہے لیکن ان کی مدد ایسے نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے جو جنگ شروع کی ہے اس پر مجھے خدشہ ہے کہ اس سے سندھ کے اندر بدامنی پھیل سکتی ہے اور سندھ کا اندرونی امن خراب ہوسکتا ہے، میری دعا ہے ایسا نہ ہو۔

اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اپنی ناعاقبت اندیشی اور تنگ نظری کی وجہ سے ملک کے اندر ہر سطح پر انتشار اور انارکی پھیلا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے 6 ستمبر کو اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کو ففتھ جنریش اور ہائبرڈ وار کا سامنا ہے، اس جنگ کے اندر دشمن کا بنیادی ہتھیار کسی ملک کے اندر انتشار پھیلانا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتشار پھیلا کر دشمن ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیاجاتا ہے، ففتھ جنریشن کے اندر فوجیں حملہ نہیں کرتیں، ہدف کے مطابق ملک کی معیشت کمزور کی جاتی ہے، ملک کو دنیا میں تنہا اور اندرونی طور پر انتشار کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج پاکستان کو اگر ہائبرڈ وار کا سامنا ہے تو دشمن کو اس ہائبرڈ وار میں کامیاب بنانے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ عمران خان کی حکومت، ان کی انتظامی اور سیاسی پالیسیاں ہیں، جو ملک کو انتشار کی طرف دھکیل رہی ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف سیاسی انتشار ہے تو دوسری طرف انتظامی انتشار ہے، آج یہ بات پھر ثابت ہوگئی ہے کہ حکومت نیب کو استعمال کررہی ہے، چیئرمین نیب کو بلیک میل کرکے اپنے مخالفین کے خلاف نیب گردی کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ پنجاب کے اندر بھی پولیس گردی کی جائے، ہر آنے والے آئی جی کو کہا جاتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے مخالفوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتظامی اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مخالفین کو تھانے اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے لیے زور دیا جاتا ہے۔

پنجاب کے آئی جی کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ان پانچ آئی جیز کو سلام کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے پاکستان اور عثمان بزدار کے انتقام کے ایجنڈے کا آلہ کار بننے سے انکار کیا اور بالآخر انہیں تبدیل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں پنجاب کے اندر 5 آئی جی تبدیل کیے گئے، اس لیے کہ یہ تمام افسران نے پی ٹی آئی کا نمائندہ بننے سے انکار کیا اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے انتقامی ایجنڈے کو چلانے سے انکار کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ‘عمران خان اور عثمان بزدار نے پولیس کے ان 5 سینئر افسران کو محض اس لیے تبدیل کیا کیونکہ وہ نیب کے چیئرمین اور نیب کی طرح مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے سے انکار کررہے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ‘پولیس سروس آف پاکستان کا جو بھی باضمیر اور فرض شناس افسر آئی جی کے منصب پر لگے گا وہ چیئرمین نیب بننے سے انکاری ہوگا اور چیئرمین نیب کی طرح اپوزیشن کو جھوٹے مقدمات میں نہیں پھنسائے گا’۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو ہٹا کر ان کی جگہ انعام غنی کو تعینات کردیا ہے۔

پنجاب میں 2018 میں حکومت بنانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے اب تک 5 آئی جیز تبدیل کیے ہیں، 2018 میں جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تھی تو اس وقت صوبے میں پولیس کے سربراہ سید کلیم امام تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں