کورونا لاک ڈاؤن: سندھ میں راشن کی تقسیم؟ مراد سعید بھی میدان میں آگئے

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے احساس پروگرام کی دنیا معترف ہے، یہ وزیر اعظم کا احساس ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم نے چھوٹے کاروباری طبقے کےلیے 200 ارب کا پیکج دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کرونا وائرس عالمی وبا ہے اور بڑی معاشی طاقتیں بے بس نظر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2 ماہ کے دوران ٹیسٹنگ استعداد بڑھائی، آج پاکستان ماسک اور سینیٹائزر خود بناکر ایکسپورٹ بھی کررہا ہے، لاک ڈاؤن کے دوران عمران خان نے 1200 ارب کا بجٹ دیا کیونکہ عمران خان نے کہا تھا کہ عوام کو کورونا کیساتھ بھوک سے بھی بچانا ہے۔

مراد سعید نے کہا کہ کیا وجہ ہے لاک ڈاؤن لاہور، پشاور میں کامیاب اور سندھ میں ناکام ہورہا ہے، سندھ کے مختلف شہروں میں لوگ راشن کے لیے احتجاج کررہےتھے۔

وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کہا لاکھوں راشن بیگز دیئے لیکن وہ کس کو ملے آج نہیں پتہ؟ آپ سے ایک ٹی وی چینل نے سوال کیا سندھ نے صحت کا بجٹ کہاں خرچ کیا تو 3 دن سے اس چینل کے خلاف پورے سندھ میں وال چاکنگ کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2019 میں سندھ میں کتے کے کاٹنے کے 93 ہزار واقعات ہوئے، سندھ میں کتے کے کاٹنے کے اتنے واقعات کے کیا ہم ذمہ دار ہیں، کل دادو میں ایک بچہ کتے کے کاٹنے کے باعث انتقال کرگیا۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ سندھ میں لوگوں میں راشن تقسیم کیا گیا، یہ بتائیں کس کو راشن دیا، سندھ میں لوگ خالی برتنوں کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں جبکہ کراچی، تھر سمیت پورے سندھ میں پانی کا مسئلہ ہے۔

سندھ حکومت سےدرخواست کرونگاوباکوروکنےکےلیےپانی کامسئلہ حل کریں، سندھ حکومت نے تھر میں 450 آر او پلانٹس لگانے کا وعدہ کیا تھا، تھر سے پھر اموات کی خبریں آرہی ہیں، آر او پلانٹس کا پتہ ہی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں