آج جب میں باہر نکلتا ہوں تو خوف محسوس ہوتا ہے، خواجہ سعد رفیق نے اپنا ڈر عوام پر واضح کردیا

مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلسل سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے جبکہ حکمران کہتے ہیں کہ ابھی مزید لوگوں کو پکڑنا باقی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا تھا کیا انہوں نے اپنی وفاداری تبدیل کی؟ حکومت نے اپنی ناکامیاں دوسروں پر ڈالنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کا قصور یہ ہے کہ وہ شہباز شریف کا بیٹا ہے، حکومت کورونا کا مقابلہ کرنے کی بجائےاپوزیشن کے ساتھ لڑنے لگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹائیگر فورس کا بڑا چرچہ کیا ہے،ان کے پاس اپنے لوگ ہیں تو ٹائیگر فورس بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

سعد رفیق نے کہا کہ جب ان کا بندہ پکڑا جاتا ہے وہ نوے روز سے پہلے ہی باہر نکل آتا ہے، نیب کے ادارے کا بدترین استعمال کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جب میں باہر نکلتا ہوں تو خوف محسوس ہوتا ہے،حکومت ڈاکٹرز اور ماہرین کی بات نہیں مان رہی ان کے مشورے کے بغیر لاک ڈاون کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ حکومت کو ڈاکٹرز کے ساتھ بیٹھنا چاہئے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس حکومت میں فیصلوں کا فقدان دیکھنے میں آیا ہے، کورونا وائرس کا واحد حل لاک ڈاوَن اور سماجی فاصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے مطابق آج لاک ڈاون ختم ہوچکا ہے جبکہ پنجاب حکومت کہہ رہی ہے کہ درخواست کریں گے کہ بڑے شہروں سے لاک ڈاون نہ ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان رابطوں کا فقدان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہمیں ایسا وزیر اعظم نہیں چاہئے جسے نہیں معلوم کہ حکومت میں ہو کیا رہا ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں