12

پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن آپس میں لڑ پڑے، اندر کی گروپ بندیاں سامنے آگئیں

ہنگامی طور پر بلایا جانے والے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن میں پارٹی کے نظریاتی کارکن پھٹ پڑے اور پی ٹی آئی کے اندر مختلف گروپ بندیاں واضح ہوکر سامنے آگئیں۔

پاکستان تحریک انصاف2013کے انتخابات میں ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پربری طرح سے پٹی تھی، سردار غلام عباس نے آزادی امیدوار کی حیثیت سے حلقہ این اے64 اور پی پی23میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس کے بعد پانچ سال کے عرصے میں سردار غلام عباس جنہوں نے2013کے انتخابات میں دونوں حلقوں سے ایک لاکھ 55ہزار ووٹ حاصل کیے تھے وہ2017میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اس طرح ضلع چکوال کے سیاسی معاملات مکمل طو رپر یکطرفہ ہوگئے اور اپوزیشن بالکل سمٹ کر رہ گئی۔

پیپلز پارٹی بھی2013کے الیکشن میں بری طرح سے پٹی تھی اور اس کے پاس تو امیدوار ہی کوئی نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی پوزیشن تھی۔2018کے انتخابات شروع ہونے سے قبل سردار غلام عباس پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور پی ٹی آئی کا چھکا سو فیصد یقینی تھا مگر سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوئے تو آخری مرحلے میں سردار ذوالفقار علی خان پی پی23کا مسلم لیگ ن کا ٹکٹ چھوڑ کر حلقہ این اے64میں پی ٹی آئی کے امیدوار بن گئے۔

مسلم لیگ ن صرف حلقہ پی پی22میں ملک تنویر اسلم کی شکل میں صرف ایک صوبائی اسمبلی کی نشست بچانے میں کامیاب ہوئی۔جبکہ اْدھر تلہ گنگ اور لاوہ میں مسلم لیگ ق نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی کی مدد سے واضح کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران تحصیل تلہ گنگ اور لاوہ کے پی ٹی آئی کے کارکن بالکل دیوار کیساتھ لگا دیے گئے تھے۔

ورکرز کنونشن میں کرنل سلطان سرخرو بھڑک اٹھے اور پارٹی قیادت کو باور کروایا کہ ہمیں گزشتہ سوا سال میں مسلسل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ سابق وائس چیئرمین چوہدری خورشید بیگ جن کا تعلق سردار غلام عباس گروپ سے ہے انہوں نے اور راجہ عرفان شہزاد دھروگی نے اپنے قائد سردار غلام عباس کا بھرپور انداز میں ذکر کیا اور پی ٹی آئی کی کم بات کی جبکہ علی ناصر بھٹی نے نظریاتی کارکنوں کو آگے لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

چوہدری احسن زاہد نے بھرپور انداز میں نوجوان کارکنوں کو آگے لانے کی بات کی،پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن کا جائزہ لیا جائے تو اس میں نظریاتی کارکن آٹے میں نمک کے برابر تھے اور گزشتہ دو تین سالوں میں پارٹی میں شامل ہونے والوں کا جم گٹھا تھا۔شمالی پنجاب کی قیادت نے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز پر زور دیا کہ وہ تنظیمی معاملات میں نظریاتی کارکنوں کو آگے لے کر آئیں۔ حاضری کے اعتبار سے پورے ضلع چکوال سے پانچوں تحصیلوں کی بھرپور نمائندگی تھی مگر پی ٹی آئی میں عزت اور احترام نہ ملنے پر گلے، شکوؤں کی بھرمار کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں