پاکستانی خبریں

انتخابات کے نتائج رات کو تبدیل کیے جانے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں: وزیر داخلہ

نگران وفاقی وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2024 کا انعقاد کڑا امتحان تھا جب کہ انتخابات کے نتائج رات کو زیادہ تبدیل کیے جانے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے، ہماری نیت میں کھوٹ ہوتا تو الیکشن کے یہ نتائج نہ ہوتے۔

وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کا انعقاد کڑا امتحان تھا، الیکشن کےروز بھی 4 شہری شہید ہوئے، دہشت گردی کے واقعات میں 28 افراد جاں بحق ہوئے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ انتخابات کے نتائج رات کو زیادہ تبدیل ہونے میں صداقت نہیں، رات ایک بجے تک نتائج دیکھے،صبح 5 بجے تک تقریبا وہی نتائج تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لوگوں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دیا، قوم آج جو رزلٹ دیکھ رہی ہے وہ سب کےسامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے خود ہر صوبے مین سیکیورٹی کا جائزہ لیا، ہمیں سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرنا چاہیے۔

گوہر اعجاز نے بتایا کہ 6 لاکھ سے زائد لوگوں نے سخت سردی میں سیکیورٹی انجام دی، انٹرنیٹ معطلی کسی نے ایجاد نہیں کی، دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے، موبائل فون سے دھماکوں کی رپورٹس موجود تھیں، ہماری نیت میں کھوٹ ہوتا تو الیکشن کے یہ نتائج نہ ہوتے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وسوسے پھیلانے والوں سے ڈریں، اس قسم کے فیصلے کسی سے شیئر نہیں کیےجاتے، قوم آج جو نتائج دیکھ رہی ہے وہ سب کےسامنے ہے، ہمیں صرف پاکستان کا سوچنا چاہیے، اس وقت ملک کو معاشی مسائل درپیش ہیں۔

اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ حکومت نے وعدے کے مطابق ملک بھر میں عام انتخابات کرائے۔

Related Articles

Back to top button