بین الاقوامی

حماس کے حملوں کا مقصد ااسرائیل اور سعودی عرب کو یکجا ہونے سے روکنا ہے: انٹونی بلنکن

امریکا نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ طور پر تعلقات کی بحالی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہو سکتا ہے۔

حماس نے ہفتے کے روز علی الصبح اسرائیل پر سمندر، زمین اور فضا سے حملہ کیا تھا جس میں اب تک 600 سے زائد اسرائیلی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے بھی غزہ میں فضائی کارروائی کی جس سے اب تک 370 افراد مارے جا چکے ہیں۔

انٹونی بلنکن نے اتوار کو سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات حیران کن نہ ہو گی کہ اس کارروائی کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کو یکجا ہونے سے روکنا اور ان ممالک کو بھی روکنا ہو گا جو اسرائیل کے ممکنہ طور تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں۔

بلنکن نے مزید کہا کہ امریکا نے اسرائیل میں متعدد امریکیوں کے ہلاک اور لاپتا ہونے کی رپورٹس کا بھی نوٹس لیا ہے اور واشنگٹن ابھی تفصیلات اور اعداد و شمار کی تصدیق کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو دہشت گرد تنظیم کا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے لیے نئی امریکی امداد کی تفصیلات بعد میں منظر عام پر لائی جائیں گی۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے مزید کہا کہ ہم اسرائیلیوں کی طرف سے کی گئی درخواستوں کو دیکھ رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ آج کے بعد آپ اس بارے میں مزید سن سکیں گے۔

انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ اتوار کے روز زیادہ تر اسرائیل میں نسبتاً امن تھا لیکن غزہ میں شدید لڑائی ہوئی جہاں اس علاقے میں فلسطینی نوجوانوں کی جانب سے حالیہ عرصے میں متعدد مظاہرے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اسرائیل میں اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے تاہم ہم نے غزہ پر حکومت کرنے والی ایران اور حماس کے درمیان دیرینہ تعلقات کا مشاہدہ کیا ہے۔

مصر اور شام کی جانب سے 50 سال قبل کی گئی کارروائی کے بعد حماس کی طرف سے ہفتے کی صبح کیا گیا حملہ اسرائیل میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

مصر اور شام نے 50 سال قبل یوم کپور جنگ کا آغاز کرتے ہوئے اسرائین پر حملہ کیا تھا جہاں اس کارروائی کا مقصد فلسطین کے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا تھا۔

Related Articles

Back to top button