عراقی حکومت کی مسلسل کاوش رنگ لائی

عراقی حکومت کی مسلسل کوششوں‌ کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے عراق کے تاریخی مقام بابل کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے۔

1983ء کے بعد بغداد نے پانچ مرتبہ ‘بابل’ کو ‘یونیسکو’ کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دینے کی سفارش کی مگر یہ پہلا موقع ہے کہ ‘یونیسکو’ نے بابل کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ تسلیم کیا ہے۔ بابل کا علاقہ بغداد سے جنوب کی سمت میں 100 کلو میٹر دور 10 مربع کلومیٹر پھیلا ہوا ہے۔

وسطی ایشیائی ریاست آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو میں ‘یونیسکو’ کے اجلاس کے موقع پر عراق کے نمائندے نے کہا کہ ‘بابل کی شمولیت کے بغیر عالمی ثقافتی ورثے کی کوئی وقعت نہیں۔ اگر بابل کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار نہیں دیا جاتا تو دُنیا کو انسانی تاریخ کے بارے میں کیسے علم ہوگا؟

اس موقع پر ‘بابل’ سمیت دُنیا بھر کے 34 تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان میں زیادہ تر بورکینا فاسو اور برازیل کے تاریخی مقامات بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں