حسینہ واجد پر حملے کا الزام، اپوزیشن کے 9 افراد کو سزائے موت

حسینہ واجد پر حملے کا الزام، اپوزیشن کے 9 افراد کو سزائے موت
بنگلہ دیش کی عدالت نے موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد پر حملہ کرنے والے 9 افراد کو سزائے موت سنادی۔

اس حوالے سے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی عدالت نے 25 سال قبل شیخ حسینہ واجد کو لے جانے والی ٹرین پر حملہ کرنے کے الزام میں اپوزیشن کے 9 کارکنان کو سزائے موت سنائی۔

پبنا کی عدالت میں پراسیکیوٹر اخترالزمان مکتہ نے بتایا کہ عدالت نے مرکزی اپوزشین جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) سے تعلق رکھنے والے مزید 25 سرگرم کارکنوں کو عمر قید جبکہ 13 دیگر افراد کو 10 سال جیل کی سزا دی۔

اخترالزمان مکتہ کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے کے وقت 34 ملزمان موجود تھے جبکہ دیگر برسوں سے مفرور ہیں‘۔

واضح رہے کہ بی این پی رہنما خالدہ ضیا کو گزشتہ برس کرپشن کیس میں جیل بھیجا گیا تھا، اس کیس کو سیاسی انتقام کہنے والے ان کے حمایتی کہتے ہیں نئے فیصلوں کا مقصد پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے۔

بی این پی کے ترجمان رضوی احمد کہتے ہیں کہ ’یہ کیس من گھڑت اور فیصلہ ایک ڈھونگ ہے‘، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اپوزیشن کے ڈر کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ’منظم‘ کیا گیا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بی این پی کے کارکنوں نے ستمبر 1994 میں اس وقت کی اپوزیشن لیڈر حسینہ واجد کو لے جانے والی ٹرین پر فائرنگ کی تھی اور جب ٹرین اسوردی ریلوے اسٹیشن پہنچی تھی تو وہاں پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا تھا، اسی مقام پر حسینہ واجد کو ریلی سے خطاب کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم نصف درجن لوگ زخمی ہوئے تھے جس میں ایک وزیر بھی تھے جو اب حسینہ واجد کی کابینہ کے رکن ہیں، تاہم پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی تھی۔

بعد ازاں 2009 میں حسینہ واجد واپس اقتدار میں آئی تھیں اور اس کے بعد سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے وہ برسر اقتدار ہیں، گزشتہ برس دسمبر میں وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں، تاہم مبصرین نے اس انتخابات پر شک و شبہات کا اظہار کیا تھا لیکن حسینہ واجد اسے شفاف انتخابات کہنے پر بضد رہی تھیں۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں وزیر اعظم حسینہ واجد پر آمریت، اپوزیشن اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافے جبکہ ہزاروں بی این پی عہدیداروں، کارکنوں اور ان کے ساتھیوں کو پولیس کی جانب سے حراست میں لینے کا الزام لگتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اپوزیشن کارکنوں کی بڑی تعداد کے لاپتہ ہونے اور حکومت پر تنقید کرنے والے بڑے صحافیوں کو قید کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

حسینہ واجد کی انتظامیہ پر اختلاف رائے رکھنے والوں کو دبانے اور ناقدین کو جیلوں میں ڈالنے کا الزام بھی ہے، جس میں بی این پی کی رہنما خالدہ ضیا کو کرپشن الزامات میں جیل میں رکھنا شامل ہے جبکہ وہ خود اسے سیاسی انقام قرار دے چکی ہیں۔

اگر ان دونوں حریفوں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کی بات کی جائے تو یہ دونوں سابق حکمرانوں کی رشتہ دار ہیں اور برسوں سے بنگلہ دیش کی سیاست میں کافی متحرک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں