تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ، حکومت نے ملازمین سے متعلق پالیسی متعارف کروا دی

کویت کے بینکوں نے رواں ماہ ہی سے تنخواہوں سے قرض کی قسطوں کی کٹوتی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کویت میں بینکوں کی اقساط میں کٹوتی اسی ماہ اکتوبر سے شروع ہوگی، قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کے سلسلے میں مرکزی یا دوسرے بینکوں کی جانب سے تاحال کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں ہوا۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں اس طرح کی کوئی توسیع کی گئی تو اس سے بینکوں کا خسارہ دگنا ہو کر 750 ملین کویتی دینار ہو جائے گا، جس سے بینکوں کے بجٹ پر ناقابل برداشت بوجھ پڑ جائے گا۔

بینکوں کو پہلے ہی اس حوالے سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے کہ حکومت کی جانب سے کرونا وبا کے پیش نظر کاروبار بند کیے گئے تھے۔

بینک اس صورت میں قرض کی قسطوں کو ملتوی کر سکتے ہیں اگر حکومت اس کی قیمت برداشت کرے، تاہم اس امر کا امکان اس لیے نہیں ہے کیوں کہ اس کی لاگت بہت زیادہ ہے، گزشتہ ماہ ختم ہونے والی 6 ماہ کی مدت کے دوران یہ لاگت تقریباً 380 ملین کویتی دینار تھی۔

ادھر کویتی حکومت فی الوقت اس اضافی اخراجات کو اس لیے برداشت کرنے سے قاصر ہے کہ اسے عوامی اخراجات کے لیے دستیاب کیش لیکویڈیٹی میں شدید کمی کا سامنا ہے، دوسری طرف خسارہ بھی تاریخی سطح پر بڑھ چکا ہے۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بینکوں کی جانب سے تنخواہوں میں قسطوں کی کٹوتی کو ملتوی کرنے کی خبریں محض افواہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں