سرکاری اداروں کو جانچنے کے لئے مئیر نے نیا روپ دھار لیا

سرکاری اداروں کو جانچنے کے لئے مئیر نے نیا روپ دھار لیا

میکسیکو کے ایک مئیر نے ایک دلچسپ سماجی تجربے کی جس میں خود کو ایک اپاہج شخص کا روپ دھار کر متعلقہ اداروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

میکسیکو میئر کارلوس ٹینا کو شہر کے معذوروں اور اپاہج کی جانب سے مسلسل شکایت موصول ہو رہی تھیں۔ اکثر شکایت سماجی بہبود سے وابستہ سرکاری افراد اور اداروں کے متعلق تھا۔ اس کے بعد میئر نے ایک اپاہج شخص کا روپ دھار کر خود جائزہ لینے کی کوشش کی ۔

 وہ مسلسل دو ماہ تک خود کو ظاہر کئے بغیر مختلف علاقوں میں گئے جہاں سماجی شعبے سے وابستہ افسران کا جائزہ لیا گیا۔ ہر جگہ انہوں نے خود کو ایک مجبور اور معذور شخص ظاہر کیا گیا اور اداروں سے مدد مانگتے رہے۔

اس کے لیے انہوں نے چہرے کو ڈھانپا، ہیٹ پہنا، کان پر پٹی باندھی اور گردن تک سویٹر پہن کر سیاہ عینک لگائی۔ ویل چیئر پر وہ پہلے سماجی ترقی کے صدر کے دفتر پہنچا اور وہاں سے انہوں نے مفت کھانے کی فرمائش کی جسے دینا ان کا فرض تھا۔ لیکن انھوں نے نہ صرف کھانا دینے سے انکار کیا بلکہ ان کی تذلیل بھی کی گئی۔

اس کے بعد ٹینا خود دفتر پہنچے تاکہ وہ میئر سے شکایت کرسکیں لیکن وہاں بھی ان کا کچھ بھی نہ ہوسکا اورکہا گیا کہ میئر ابھی موجود نہیں۔

اس پر انہوں نے شہری کونسل کے سیکریٹری سے بات کی تو اس نے نرم لہجے میں انہیں انتظار کرنے کو کہا۔ لیکن وہ ڈیڑھ گھنٹے بعد بھی نہیں آیا۔ یہاں میئر کو احساس ہوا کہ عوام درست کہہ رہی ہے۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی شناخت ظاہر کردی جس پر لوگ حیران رہ گئے۔ لیکن انہوں ںے اس وقت کچھ نہیں کہا۔

اس کے بعد انہوں نے تمام اداروں کے افسران کو بلا کر وارننگ دی جس کے بعد اب تک معاملات درست طریقے سے چل رہے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں