تدفین کے آخری لمحات میں زندگی کی سانسیں بحال۔۔۔ لواحقین خوفزدہ

بھارت میں ڈاکٹروں نے 20 نوجوان مردہ قراقر دیا لیکن تدفن سے کچھ لمہے قبل ایک معجزہ رونما ہوگیا۔

تفصلات مطابق بھارتی شہر لکھنو میں 20 سالہ نوجوان محمد فرقان کی طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے نوجوان کو مردہ قرار دے دیا اور ضروری کارروائی کے بعد 7 لاکھ کا بل وصول کرکے لاش اہل خانہ کے حوالے کردی۔

محمد فرقان کے گھر والےغم سے نڈھال  ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک (بیٹے) کی تدفین کے انتظامات کر رہے تھے کہ  بڑے بھائی نے اچانک دیکھا کہ میت کے ہاتھوں اور پاؤں میں جنبش ہوئی جس کی تصدیق گھر کے دیگر افراد نے بھی کی۔

اہل خانہ نے میت کے قریب جاکر آواز دی تو فرقان نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں، محمد فرقان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا وہاں فرقان کے زندہ ہونے کی طبی بنیادوں پر تصدیق کردی گئی۔

واضح رہے مسلسل بیماری کے باعث نقاہت ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی بلڈ پریشر کی انتہا کم ہونے کہ وجہ سے ہاتھوں، نبض اور دل کی دھڑکن نہ تو سنائی دیتی ہے اور نہ محسوس ہو پاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں