سپریم کورٹ نے موبائل فون بیلنس پر ٹیکس کٹوتی کے بارے میں بڑا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موبائل فون بیلنس پر ٹیکس کٹوتی پر دیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 11 جون 2018 کے ٹیکس معطلی کے فیصلے میں نہ ہی وجہ کو بیان کیا گیا اور نہ اس کا تعین کیا گیا کہ اس طرح کے ٹیکس کا نفاذ دائرہ کار کے…

 تاہم سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 (3) کے تحت اپنے اختیارات کو درست اور مناسب طریقے سے استعمال کیا چونکہ اس طرح کے اختیارات کے تمام شرائط کیس میں مکمل طور پر پورا اترتی تھیں۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی اور عوامی نوعیت کے معاملات میں سپریم کورٹ کو اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔

واضح رہے کہ 11 جون 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر سے متعلق متفرق سماعت کے دوران موبائل فون ٹوپ اپ پر ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور سروسز چارجز کی کٹوتی کو معطل کردیا تھا۔

عوامی شکایات پر سابق چیف جسٹس نے 3 مئی 2018 کو ایزی لوڈ اور اسکریچ کارڈ کے ذریعے موبائل فون بیلنس پر ٹیکسز اور دیگر چارجز کی کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تفیصلی فیصلہ میں بتایا کہ کیوں 24 اپریل 2019 کو عدالت عظمیٰ نے ٹیکسز کی کٹوتی کو بحال کردیا۔

انہوں نے عوامی اہمیت کے معاملات میں بنیادی حقوق کے نفاذ میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے غیرمعمولی دائرہ کار کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی چونکہ اس طرح کے فیصلوں کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہوتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ چونکہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائرہ کار کے استعمال کے دوران اس عدالت کی جانب سے دیے گئے حکم/فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہے، لہٰذا آئین کے تحت مقرر کی گئی حدود میں ہر احتیاط پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے‘۔

انہوں نے اپنے 13 صفحات کے فیصلے میں بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے وضاحت کی جس میں سپریم کورٹ آرٹیکل 184 (3) کے تحت اپنے دائرہ کار کا استعمال کرسکتا ہے اور یہ پہلے ہی آئین کے باب 2 کے پہلے حصے میں بیان کیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ان بنیادی حقوق میں کسی میں بھی ٹیکس سے تحفظ کا ذکر نہیں کیا گیا جبکہ قانونی افسروں کی جانب سے دیے گئے دلائل میں سے ایک سے اتفاق کیا جاتا ہے کہ ٹیکسز کو عوامی مفاد کے خلاف تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ٹیکسز عوام کے فائدے کے لیے ہی خرچ ہوتے ہیں۔

 

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ عمومی طور پر آئین کی شقوں کے ساتھ مقننہ کی طرف سے عائد کیے گئے ٹیکس کے چیلنجز کو پورا کرنے میں سست ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیکس نافذ کرنے والے قانون کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ ضروری نہیں ایسے معاملے میں درخواست دائر کی جائے جس میں عدالت کو کسی ذریعے سے کسی بھی معاملے کی معلومات موصول ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ عدالت کے نوٹس میں آتا ہے اور عوامی نوعیت کے معاملے میں آرٹیکل 184 (3) پر پورا اترتا ہے تو آئین عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ نوٹس لے اور شہریوں کے اس طرح کے بنیادی حقوق کے نفاذ، ان کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں