ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی ، آئی ایم ایف نے خبردار کردیا

عالمی مالیاتی فنڈ نے خبر دار کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھے گی، جس میں آئندہ سال معمولی کمی آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق ایم ایف نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ، جس میں کہا ہے کہ رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ دو فی صد رہے گی ، جو آئندہ سال کم ہو کر 8.8 فی صد ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو اعشاریہ پانچ فی صد اور بے روزگاری صفر اعشاریہ چھ فی صد سے بڑھ کر پانچ اعشاریہ ایک فی صد ہونے کا امکان ہے۔

حکومتِ پاکستان نے شرح نمو جی ڈی پی کے دو اعشاریہ ایک فی صد، افراطِ زر چھ اعشاریہ پانچ فی صد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ پانچ فی صد رہنے کا ہدف مقرر کیا تھا جو آئی ایم ایف کے مطابق ممکن نظر نہیں آ رہا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی عالمی کوششوں کو کرونا کے باعث ریورس گیئر لگ چکا ہے اور پاکستان میں ڈالر کی قدر میں کمی اور روپے کی قیمت میں بہتری کے باوجود ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کی بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ زر ہیں جب کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر ستمبر میں مسلسل چوتھے مہینے دو ارب ڈالر سے زائد رہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ دو اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے پاس محفوظ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا حجم 12 ارب ایک کروڑ 54 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جب کہ مجموعی ذخائر کا حجم 19 ارب تین کروڑ 51 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق ستمبر کی ترسیلات بڑھ کر 2 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں اکتیس اعشاریہ دو فی صد زیادہ اور اگست کی نسبت نو فی صد زائد ہیں۔

اسی طرح رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں صفر اعشاریہ نو فی صد کمی جب کہ درآمدات میں صفر اعشاریہ پانچ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں