ٹیکنالوجی کی خبریں

پگھلتے گلیشیئرکتنے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں؟ ماہرین نے بتا دیا

 ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئےعالمی درجہ حرارت کے نتیجے میں پگھلتے گلیشیئرز ممکنہ طور پر اگلے مہلک عالمی وباء کا سبب ہوسکتے ہیں۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف اوٹاوا کے شعبہ حیاتیات کے سائنس دانوں نے قطب شمالی کی جھیل ہیزن سے حاصل کیے گئے نمونوں کا معائنہ کرتے ہوئے مطالعہ کیا کہ کس طرح موسمیاتی تغیر کسی دوسرے جاندار میں وائرس کے منتقل ہونے یعنی اسپِل اوور کا سبب بن سکتا ہے۔

محققین کو معلوم ہوا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کے ساتھ وائرس منتقلی کے وقوعات میں بھی اضافہ متوقع ہے کیوں کہ پگھلا ہوا پانی نئےاہداف تک پیتھوجینز کو پہنچا سکتا ہے۔سیکڑوں سالوں سےگلیشیئرز میں جمے ہوئے مہلک وائرس درجہ حرارت کے بڑھنے کے سبب برف پگھلنے کے نتیجے میں دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں۔
وائرس کو اپنی نقول بنانے اور پھیلنے کے لیے انسان، جانور، پودے یا فنگئی جیسے جاندار کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ کسی دوسرے ہدف جس کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے میں منتقل ہوجاتے ہیں، جیسے کہ کووڈ کے دوران دیکھا گیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرم ہوتا موسم کے سبب قطب شمالی کا ماحول اور جاندار وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ’وائرل اسپِل اوور‘ کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

کینیڈین سائنس دانوں کی جانب سے کی جانے والی یہ تحقیق پروسِیڈنگز آف دی رائل سوسائیٹی بی نامی جرنل میں شائع ہوئی۔

Related Articles

Back to top button