ٹیکنالوجی کی خبریں

فرانس نے جدید ترین فوجی مواصلاتی سیٹلائٹ لانچ کردیا

فرانس نے کامیابی کے ساتھ ایک جدید ترین سیٹلائٹ کو مدار میں لانچ کردیا ہے جو دنیا بھر میں فرانس کی تمام مسلح افواج کو تیزی سے اور محفوظ طریقے سے بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پیرس نے حریف ممالک کے خلائی ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے خدشات کے درمیان جولائی 2019 میں ایک خلائی فورس کمانڈ تشکیل دی تھی۔

فرانسیسی فضائی اور خلائی فورس کے ترجمان کرنل اسٹیفن سپیٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ سیٹلائٹ زمین اور خلا میں فوجی جارحیت کے علاوہ مداخلت کے خلاف ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سائراکوز 4 اے سیٹلائٹ سے لیس اریان 5 راکٹ ہفتے کے آخر میں فرانس کے علاقے گیانا سے روانہ ہوا، مشن نے ٹیک آف کے بعد 38 منٹ اور 41 سیکنڈ مکمل کیے۔

سیٹلائٹ اپنے قریبی ماحول کا جائزہ لے سکتا ہے اور حملے سے بچنے کے لیے خود اپنا مقام تبدیل کر سکتا ہے۔

اس کے جدید آلات (اینٹی جامنگ اینٹینا اور ڈیجیٹل ٹرانسپیرنٹ پروسیسر) کی بدولت، سائراکوز 4 اے جیمنگ عمل کے خلاف اعلی مزاحمت کی ضمانت دے گا۔

جنیوا سینٹر برائے سیکیورٹی پالیسی میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے ماہر مارک فناؤڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیٹلائٹ کو الیکٹرو میگنیٹک پلسز سے بھی محفوظ رکھا گیا ہے جو ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انتباہ ناکام ہو گیا تو یہ آخری وارننگ کا منظر پیش کرے گا۔

مارچ میں فرانس نے اپنے سیٹلائٹس کے دفاع کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے خلا میں اپنی پہلی فوجی مشقیں شروع کی تھیں جسے ’فرانسیسی فوج کے لیے پہلی اور یورپ میں پہلی‘ قرار دیا گیا تھا۔

فرانسیسی حکومت نے روس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے انٹیلی جنس اکٹھے کرنے والے سیٹلائٹ اولمپ-کے، جسے لوچ بھی کہا جاتا ہے، 2017 میں فرانسیسی اطالوی فوجی سیٹلائٹ ایتینا فیدس کے قریب لایا تھا جسے وزیر دفاع فلورنس پارلی نے ’جاسوسی کا عمل‘ قرار دیا تھا۔

گزشتہ سال امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے خلا سے غیر تباہ کن اینٹی سیٹلائٹ ہتھیاروں کا تجربہ کیا ہے۔

مارچ میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے کہا تھا کہ اس کے بعد بھی اسی طرح کے دیگر واقعات ہوئے ہیں لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

فرانس کے خلائی پروگرام میں سرمایہ کاری 2019 سے 2025 کے بجٹ کی مدت کے دوران 4 ارب 30 کروڑ یورو (5 ارب ڈالر) تک پہنچنے کا امکان ہے جو امریکا یا چین کی طرف سے خرچ کی گئی رقم کا چھوٹا سا حصہ ہے۔

Related Articles

Back to top button