ٹیکنالوجی کی خبریں

گوگل پر 26 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا

فرانس کے مسابقتی ریگولیٹر نے آن لائن اشتہارات لگانے کے لیے مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن کا غلط استعمال معلوم ہونے پر ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر 22 کروڑ یورو (26 کروڑ ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔

خیال رہے کہ ان دنوں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یورپ میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق 3 میڈیا گروپس- نیوز کارپوریشن، فرانسیسی روزنامہ لی فیگارو اور بیلجیئم کے گروپ روسل نے گوگل پر مؤثر طریقے سے اپنی ویب سائٹس اور ایپس کی اشتہاری فروخت پر اجارہ داری جاری رکھنے کا الزام عائد کیا تھا اور یہ معاملہ نمٹانے کے حصے کے تحت گوگل پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

مسابقتی اتھارٹی نے اس بات کا تعین کیا کہ گوگل نے اپنی اشتہاری انوینٹری نیلامی سروس ایڈ ایکس اور اور صارفین کو اشتہارات کا انتخاب کرنے اور خریدنے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے ریئل ٹائم پلیٹ فارم کو ترجیح دی۔

اتھارٹی کی صدر اسابیل ڈی سلوا نے کہا کہ ‘یہ پیچیدہ الگورتھم پروسیسز کی جانچ کے حوالے سے دنیا کا پہلا حکم نامی ہے جو آن لائن ‘ڈسپلے’ ایڈورٹائزنگ کی نیلامیوں کا تعین کرتا ہے’۔

میڈیا گروپس جو حریف پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی انٹرنیٹ سائٹس یا موبائل ایپس پر ایڈ اسپیس فروخت کرنے کے خواہشمند ہیں، انہیں اکثر مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ گوگل کی سروسز متعدد طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے حریفوں کے خلاف غیر منصفانہ طور پر مقابلہ کررہی ہیں۔

مثال کے طور پر ریگولیٹرز نے یہ دیکھا کہ نے ڈبل کلک دوسرے نام نہاد ایڈ سرورز کی پیش کردہ قیمتوں پر مبنی فروخت کرتے وقت اس کے بنائے گئے کمیشن میں مختلف ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، گوگل نے ڈبل کلک سے سامنے آنے والی پیش کشوں کے ساتھ ترجیحی سلوک کرنے کے لیے ایڈ ایکس کا بندوبست کیا جس سے کمپیٹیٹرز جیسا کہ انڈیکس ایکسچینج پر مؤثر اثر پڑا۔

میڈیا گروپوں نے اپنے آن لائن اشتہارات کی آمدن میں کمی دیکھی حتیٰ کہ ان کے کاروبار ماڈل نے اخبار کی سبسکرپشن کو شدید متاثر کیا ہے جس سے ان کی اشتہاری آمدن میں بھی کمی آئی، تاہم لی فیگارو نے اپنی شکایت واپس لے لی۔

گوگل نے ان نتائج کا تقابلی جائزہ نہیں لیا اور ریگولیٹر کے مطابق کمپنی، تیسری پارٹی کے اشتہار کی جگہ فراہم کرنے والے کمپنیوں کے ساتھ بہتر باہمی مداخلت سمیت آپریشنل تبدیلیوں پر قائم ہے۔

گوگل فرانس کی قانونی ڈائریکٹر ماریہ گومری نے ایک بیان میں کہا کہ ہم آنے والے مہینوں میں ان تبدیلیوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے سے پہلے ان کی جانچ کریں گے۔

یہ جرمانہ صرف اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی طور پر گوگل کے ذریعے آن لائن بکنے والے اشتہاروں کی 55 ارب ڈالر آمدن کے ایک چھوٹے سے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ٹیکنالوجی فرمز کو یورپی حکام سے کافی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمنی کے مسابقتی ریگولیٹر نے کہا تھا کہ وہ گوگل اور اس کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحقیقات میں توسیع کررہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button