ایسا سیارہ دریافت جہاں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے

سائنسدانوں نے ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جہاں بارش میں پانی نہیں بلکہ چٹانیں برستی ہیں۔

جی ہاں واقعی کے 2۔141 بی نامی اس آتش فشانی سیارے میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے۔

یورک یونیورسٹی کے محققین نے ایک کمپیوٹر سمولیشن کے ذریعے اس منفرد سیارے کے موسم اور ماحول کی پیشگوئی کی۔

یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے کے بہت زیادہ قریب واقع ہے اور اس کا دوتہائی حصہ آگ برساتی روشنی کی زد میں رہتا ہے جبکہ تاریک حصہ سرد ہے۔

تحقیق کے نتائج جریدے منتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوئے۔

اس سیارے میں ایک لاوے کا سمندر بھی بہتا ہے جس کی گہرائی 62 میل ہوسکتی ہے جبکہ اس کی سطح پر 3100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سپرسونک ہوائیں چلتی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ تمام چٹانی سیارے بشمول زمین آغاز میں پگھلی ہوئی دنیائیں تھیں جو بہت تیزی سے ٹھنڈی ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرگئیں، آتش فشانی سیارے ہمیں اس ارتقائی عمل کی نایاب جھلکیاں فراہم کرتے ہیں۔

کمپیوٹر سمولیشنز میں عندیہ ملا کہ کے 2۔141 بی میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے، کیونکہ یہاں معدنیاتی بخارات چٹانوں کو سپرسانک ہواؤں کے ذریعے ارا دیتے ہیں اور پھر چٹانوں کی بارش لاوے پر برستی ہے۔

محققین کو توقع ہے کہ اگلی نسل کی دوربینوں سے وہ اس سیارے کے قریب سے مشاہدہ کرسکیں گے اور تصدیق ہوسکے گی کہ کمپیوٹر سمولیشنز کس حد تک مستند ہیں۔

اس حوالے سے ناسا کی جیمز ویبب اسپیس ٹیلی اسکوپ اہم ہوگی جو 2021 میں کام شروع کرے گی۔

یہ زمین کے حجم کا سیارہ ہے جس پر ٹھوس سطح، سمندر اور ماحول ہے جو چٹانوں سے بنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں