کورونا وائرس: جنوبی کوریا نے بچاؤ کا طریقہ کار متعارف کروا دیا

جنوبی کوریا نے ہلاکت خیز کورونا وائرس سے نمٹنے کےلیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں مہلک ترین وبا کورونا وائرس نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔

جنوبی کوریا چاہتا ہے کہ اپنی جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی بدولت اس ہلاکت وبا کوویڈ 19 کو کنٹرول کرے۔ ساؤتھ کوریا نے وائرس سے لڑنے کےلیے بڑے پیمانے پر عوام اور غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا تاکہ مختصر وقت میں وائرس پر قابو پایا جاسکے۔

جنوبی کوریائی حکومت شہریوں اور غیر ملکیوں کے ساتھ تمام سرکاری و غیر سرکاری این جی اوز، اسپتال، فنانشل سروسز، موبائل آپریٹرز اور دیگر سروسز کا ڈیٹا بھی اکھٹا کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگر کسی شخص میں کوویڈ 19 وائرس کی تشخیص ہوتی ہے جو اکھٹا کیے گئے ڈیٹا کی بدولت متاثرہ شخص سے متعلق معلومات، اس کی سفری تفصیلات، سرگرمیاں اور گزشتہ دو ہفتے کی تمام تفصیلات موبائل نوٹیفیکشن کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

جنوبی کوریا نے متاثرہ افراد کےلیے عارضی میڈیکل سینٹر قائم کردیا ہے جہاں کرونا وائرس میں مبتلا افراد رہیں گے اور کام کریں گے اور وہیں ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنے شہریوں کو روزمرنہ ضروریات کا سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ شہری اپنا آئی ڈی کارڈ قریبی اسٹور پر دکھا کر ایک وقت میں صرف دو ہی ماسک خرید سکتے ہیں جبکہ آئی ڈی کارڈ کی بنیاد پر وہ کھانے پینے کی اشیاء بھی محدود مقدار میں خرید سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کی وبا سے ساڑھے 8 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 102 افراد اس وائرس میں مبتلا ہوکر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں